خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 347

347 الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا نے وعدے کئے ہوئے ہیں اور اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود کے الہامات موجود ہیں۔وہ خوب جانتے ہیں کہ اس مسجد کی کیا قدر ہے اور اس میں نماز پڑھنے سے کتنا ثواب حاصل ہوتا ہے۔چونکہ بار بار سمجھانے کے باوجود کئی لوگ ہیں۔جو نماز باجماعت کی پابندی نہیں کرتے۔اس لئے اب میں نے یہ تجویز کی ہے کہ ہر محلہ میں ایسے آدمی مقرر کئے جائیں جن کا کام یہ دیکھنا ہو کہ با قاعدہ لوگ نمازوں میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔نمازوں میں نہ آنے والوں کی اگر وہ اطلاع نہ دیں گے تو میں ان کو ذمہ دار قرار دوں گا۔عشاء کی نماز میں عام طور پر لوگ غیر حاضر ہوتے ہیں۔اس لئے مختلف مسجدوں کے اماموں کا فرض ہے کہ وہ دیکھ بھال کریں کہ کون آتا ہے اور کون نہیں۔اور اپنے محلہ کے لوگوں کو نگاہ میں رکھیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ کون با قاعدہ آتا ہے اور کون نمازوں میں آنے سے سستی کرتا ہے۔تمام محلوں کی لٹیں (فہرستیں) بنا کر ان کو دیجائیں۔کہ فلاں شخص فلاں فلاں محلہ میں رہتا ہے پھر اس کے مطابق وہ دیکھیں کہ کیا محلے کے لوگ نماز میں آتے ہیں یا نہیں۔ان کا فرض ہے کہ جب وہ چاہیں اس لسٹ کے مطابق ان کی پڑتال کریں اس پڑتال کے لئے کوئی دن مقرر نہیں کیا جانا چاہئے۔بلکہ جس دن چاہے امام پوچھ لے۔اس کام کے لئے ہر محلہ میں ایک ایک شخص مقرر کرنا چاہئے کہ وہ ان تمام لوگوں کے متعلق جو اس کے محلے میں رہتے ہوں۔پوری پوری واقفیت رکھے اور امام نماز جب چاہے ہفتہ میں ایک دن اس سے پوچھ لے کہ لاؤ اپنے محلے کے آدمی پیش کرو۔اس کام کے لئے کوئی دن مقرر نہیں کیا جائے گا۔بلکہ جس دن امام چاہے اس بات کو پوچھ سکتا ہے اور دیکھ سکتا ہے کہ کتنے آدمی اس محلہ میں آباد ہیں اور کتنے نمازوں میں اور خصوصاً عشاء اور صبح کی نمازوں میں آتے ہیں۔بعض دفعہ عادت سے بھی اصلاح ہو جاتی ہے۔ممکن ہے کہ اگر اس طرح کیا جائے تو ان لوگوں کو پھر عادت ہو جائے کہ باجماعت نماز پڑھا کریں۔اگر ایک شخص نمازوں میں سستی کرے اور اس کی سستی دور کرنے کے لئے کوئی کوشش نہ کی جائے تو اس کی سستی اور بھی بڑھتی ہے۔جو بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ ایسا آدمی نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیتا ہے لیکن اگر ستی کرنے والے کی سستی دور کرنے کے لئے کوشش کی جائے اور اسے نمازوں میں نہ آنے پر باز پرس کی جائے تو وہ پھر آہستہ آہستہ سستی چھوڑنا شروع کر دیتا ہے۔اور نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرلیتا ہے۔