خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 324

324 39 ایک پیش خبری کا پورا ہونا (فرموده ۱۳ نومبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام دنیا میں آکے کئے۔ان کا ذکر کرتے ہوئے ایک کام یہ بھی بیان کیا تھا کہ انبیاء کی آمد کے بغیر کامل یقین اور ایمان صفات الہیہ پر حاصل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انبیاء اللہ تعالٰی کا نشان اور اس کی آیت ہوتے ہیں۔جن کے ذریعے خدا تعالیٰ کی ذات پر اور خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان پختہ ہوتا ہے۔آج میں اسی سلسلہ میں ایک تازہ واقعہ بطور مثال بیان کرتا ہوں۔یہ واقعہ وہ واقعہ ہے جس نے ان دنوں میں خطرناک اور خوفناک تباہی پیدا کر دی اور ہر شخص کو جس کے سینے میں دل اور دل میں درد ہے حیران کر رکھا ہے۔اور جس نے ہر ایک شخص کے دل کو درد اور دکھ سے بھر دیا ہے۔وہ واقعہ دمشق کی تباہی ہے جو شام کے ملک کا دارالسلطنت ہے۔دمشق ان پرانے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔جسے تاریخ کی تبدیلیاں اور مرور زمانہ کا اثر مٹا نہ سکے اور چند ہی شہر دنیا کے ایسے ہیں جو کہ اسی طرح اسی نام پر کہ جو پہلے دن ان کا رکھا گیا اور اسی حالت پر جو کہ ابتداء میں ان کی تھی اور اسی مقام پر کہ جس پر شروع میں وہ قائم کئے گئے۔بدستور چلے آتے ہوں۔جس طرح کہ دمشق چلا آتا ہے۔اڑہائی ہزار سال کی تاریخ تو اس کی یقینی ہے اور اس سے پہلے کہ کب سے یہ آباد چلا آتا ہے۔صحیح اندازہ نہیں۔حضرت سلیمان" کے زمانہ میں بھی یہ شہر موجود تھا اور بڑا بارونق تھا۔پھر اس شہر کے بادشاہوں اور ان کے کارناموں کا ذکر داؤد علیہ السلام کے حالات میں بھی آتا ہے۔پھر رسول کریم ﷺ کے بعد بھی اس شہر نے پورا پورا عروج پایا۔بلکہ مجھے یہ کہنا چاہئے کہ رسول کریم اس سے پہلے بھی اس کو پوری پوری تاریخی اہمیت حاصل