خطبات محمود (جلد 9) — Page 307
307 ہے اور کوشش کرتا ہے کہ معافی کر اور کرالوں۔تو یہ امید نہیں رکھی جاتی کہ کوئی مرنے والا ایسی وصیت کر جائے کہ جس کے مرنے کے بعد بھی جھگڑا پیدا ہو یا وہ اس قسم کی کوشش کرے کہ اس جھگڑے کو جو اس کی زندگی میں پیدا ہوا۔اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رکھا جائے۔اور اگر ہو تو ہذیان ہو گا۔اور کسی عقل مند کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کی پابندی کرے پس اگر ایسا ہو۔اور کسی جگہ اس قسم کا معاملہ پیش آجائے کہ سچ سچ کسی مرنے والے انسان نے اس قسم کی باتیں کمی ہوں اور ہوش و حواس کے ساتھ کسی ہوں تو بھی لواحقین کو چاہئے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو چھپائیں نہ کہ ظاہر کریں کیونکہ اس طرح مرنے والے کی برائی پھیلے گی۔نہ کہ نیکی۔اس سے زیادہ کیا برائی ہو سکتی ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے ذکر کے ساتھ ایسی بات لگا دیں کہ جس سے اس کا ذکر ہمیشہ کے لئے برے طریق سے کیا جائے۔ایسے موقعوں پر تو اس قسم کی باتوں کو چھپانا چاہئے نہ ان کو ظاہر کر کے ان کے موافق عمل کرنا چاہئے۔آخر عداوتیں اور جھگڑے دونوں طرف سے ہوتے ہیں۔اگر یہ دیکھ کر کہ کوئی ہمدردی کے لئے آتا ہے۔ہم اس کی پرواہ نہ کریں اور اس کی ہمدردی کی قدر نہ کریں۔تو یہ ہمارا قصور ہے۔جھگڑوں کو مٹانے اور عداوتوں کو دور کرنے کے لئے کوئی شخص قدم اٹھائے یا صلح کے لئے ہاتھ بڑھائے اور ہم اگر ہاتھ کھینچ لیں تو افتراق اور شقاق اور فساد کا الزام ہم پر ہے۔مرنے والا تو مر گیا۔اب یہ جھگڑا زندے پیدا کرتے ہیں کہ فلاں مرنے والا یہ کہہ گیا تھا۔پس اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ مرنے والے کے ذکر کے ساتھ ایسی باتیں لگاتا ہے جو ہمیشہ اس کو برا بنا دیں۔پس اس سے بچنا چاہئے۔بدلہ لینا اسلام کی تعلیم نہیں لیکن اسلام کی یہ تعلیم بھی نہیں کہ بدلہ نہ لو۔اسلام تو یہ سکھاتا ہے کہ موقع کے مناسب کارروائی کرو۔اگر بدلہ لینا مفید ہے اور قصور وار کی بہتری اسی میں ہے تو بدلہ لو۔نہیں تو بدلہ نہ لو بلکہ معاف کر دو۔پس اسلام کی تعلیم میں یہ کسی جگہ نہیں کہ ضرور ہر موقع پر بدلہ لویا ہر موقع پر بدلہ نہ لو بلکہ اسلام کی تعلیم میں یہ داخل ہے کہ خواہ کتنا ہی کسی نے تمہارا قصور کیا ہو اور خواہ کتنا ہی اس قصور کی وجہ سے تمہارا غصہ بھڑکا ہوا ہو۔تم نہ تو آپے سے باہر ہو جاؤ اور بالنضرور بدلہ لو۔اور نہ ہی اس قدر نرم ہو جاؤ کہ بدلے کا نام ہی نہ لو بلکہ تم اس وقت یہ دیکھو کہ قصور کرنے والے کا بھلا کس میں ہے۔بدلہ لینے میں یا بدلہ نہ لینے میں۔اور پھر جس میں تمہیں بھلائی نظر آئے وہی کرو۔مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ایسے موقع پر فوراً بدلہ لینے پر اتر آتے ہیں۔خواہ اس بدلہ لینے میں کتنا ہی نقصان ہو تا ہو اور وہ شخص کتنا ہی