خطبات محمود (جلد 9) — Page 306
306 نے اب یہ بات بھلا دی ہوگی۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں۔انسانی فطرت ہمیشہ ایسی باتیں یاد نہیں رکھ سکتی۔اگرچہ اس کو میرے ساتھ اختلاف ہے مگر میرا خیال ہے کہ اس قسم کے شکوے اب مٹ چکے ہوں گے اور اس شخص نے بھی ان باتوں کو بھلا دیا ہو گا۔کیونکہ یہ کوئی اچھے اخلاق نہیں کہ اس قسم کی باتوں کو یاد رکھا جائے۔مگر بعض لوگ دیر تک شکووں کو یاد رکھتے ہیں۔ایک شخص نے لکھا ہے کہ یہاں ایک میت ہو گئی اور اس کے لواحقین نے کہا مرنے والی نے کہا تھا۔فلاں فلاں عورتیں میرے جنازے پر نہ آئیں۔مرنے والی تو مرگئی اب یہ زندوں کے سر پر تھا کہ اگر اس قسم کی بات ہوئی بھی تھی تو اس کا ذکر نہ کرتے۔اس طرح گویا وہ ان شکووں کو پھر تازہ کرتے ہیں جو ایک فریق کے مرنے سے مٹ چلے تھے۔اگر کسی مرنے والی نے ایسا کہا ہو۔تو میں کہوں گا وہ ہذیان تھا یا بیماری کا اثر کہ اس نے ایسی باتیں کہیں۔ورنہ جب موت قریب ہوتی ہے تو اس وقت مرنے والا یہ دیکھ کر کہ میں کوئی دم کا مہمان ہوں اپنے قلب سے ہر قسم کے بغض نکال دیا کرتا ہے۔چنانچہ یہ ایک عام بات ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ لوگ جب موت کے قریب ہوتے ہیں تو اکثر دوسروں سے کسے سنے کی معافی مانگتے ہیں اور خود بھی دوسروں کی خطائیں اور قصور معاف کر دیتے ہیں۔پس ایسے وقت میں جبکہ لوگ تلاش کر کر کے قصوروں کی معافی کراتے ہیں۔یہ کہنا کہ کسی مرنے والی نے ایسی وصیت کی تھی۔بالکل فضول ہے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا یہ اور بھی واہیات کی بات ہے۔کیونکہ جب یہ ایک عام بات ہے کہ ایسے وقت میں لوگ دوسروں سے معافی مانگتے اور خود بھی ان کو معافی دیتے ہیں۔تو اگر کوئی اس قسم کی بات کرے اور اس قسم کی وصیت کرے کہ فلاں عورت میرے جنازے پر نہ آئے۔یا فلاں مرد میرے جنازے کو ہاتھ نہ لگائے تو یہ یا تو بیماری کا اثر ہے یا ہذیان ہے جس کی فی الحقیقت کوئی اصل نہیں اور جب اس قسم کی باتیں ہذیان سے زیادہ نہیں۔تو پھر زندوں کا اس کے مطابق عمل کرنا درست نہیں۔عربوں میں تو یہ دستور تھا کہ کسی کی جانکنی کے وقت وہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لاتے اور ان سے مرنے والے کو معافی دلاتے اور اس سے ان کو اور اگر جانکنی کے وقت کسی کو زیادہ تکلیف ہوتی تو وہ سمجھتے کہ شائد اس کی معافی نہیں ہوئی اور جب کبھی اس قسم کا واقعہ ہوتا وہ شہر والوں اور تمام ان لوگوں کے پاس جاتے۔جن کے ساتھ مرنے والے کا تعلق ہو تا یا جن کے ساتھ اس کا پیارو محبت ہو تا تھا۔ان کو لا کر معافی کراتے۔پس جبکہ یہ ایک عام بات ہے اور مرتے وقت انسان ایسے خیال رکھتا کوا