خطبات محمود (جلد 9) — Page 289
289 ہوگا۔کیونکہ یہ زندگی در حقیقت اس زندگی کے مقابلے میں جو کہ اگلے جہان کی زندگی ہے اور دائمی ہے کوئی قدر نہیں رکھتی اور اس کے سامنے اس کی کوئی قیمت نہیں۔کیونکہ وہ عارضی نہیں مستقل ہے اور نہ ہی وہ اس کی طرح فانی ہے بلکہ وہ دائمی ہے۔دنیا میں کون سا شخص ہو گا۔جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔کوئی بھی ایسا نہیں۔اگر کسی کے پاس اور کچھ نہیں تو ایک بار یک چیتھڑا ستر ڈھانکنے کے لئے ضرور ہو گا۔یہ بھی نہ سہی۔انسان کے بالوں اور ناخنوں وغیرہ کی بھی قیمت ہے۔ناخن اور بال بھی فروخت ہوتے ہیں بلکہ انسان کا وہ فضلہ بھی فروخت ہوتا ہے جس سے کھیتیاں ہوتی ہیں۔پس اگر کوئی مادر زاد نگا بھی ہو۔تو بھی اس کے پاس اس قسم کی چیزیں ہوں گی۔پھر کیا وجہ ہے کہ تم اس کو مالدار نہیں کہتے۔اسی لئے کہ وہ مال میں قلیل ہے۔پس معلوم ہوا کہ کثرت کے لحاظ سے نام رکھے جاتے ہیں اور جسے ہم امیر کہتے ہیں۔مال کی کثرت کی وجہ سے کہتے ہیں۔جب یہ بات ہے کہ کثرت کے سبب نام رکھے جاتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ عرصہ جو ابدی، قطعی اور غیر مقطوع ہے اس کو زندگی نہ کہا جائے اور دنیا میں چند روز کے لئے عارضی طور پر رہنے کو زندگی کہا جائے۔اگر کثرت کو اصل چیز کہا کرتے اور قلیل کو چھوڑتے ہیں تو ایمان اور کفر کا بھی یہی حال ہے۔جن کو ہم مومن کہتے ہیں۔ممکن ہے کہ کفر کا کوئی حصہ ان کے اندر ہو اور جن کو ہم کافر کہتے ہیں ان کے اندر ایمان کا حصہ ہو لیکن باوجود اس کے ہم ایک کو مومن کہتے ہیں اور دوسرے کو کافر۔کیونکہ اس وقت ہماری نگاہ کثرت پر ہوتی ہے اور جس چیز کی کثرت کسی شخص میں پائی جائے اسی کے لحاظ سے ہم اس کا نام رکھتے ہیں۔مومنوں میں تو ایسے انسان ہوتے ہیں۔جن میں ذرا بھی کفر نہیں پایا جاتا لیکن کافروں میں سے کم ایسے ہوتے ہیں جن میں ایمان ہوتا ہے۔لیکن جن میں ہوتا ہے وہ اتنا تھوڑا ہوتا ہے کہ اس کی بناء پر انہیں مومن نہیں کہا جا سکتا۔جب یہ حالت ہے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا کی عارضی زندگی کو تو زندگی کہیں اور موت کے بعد کی حالت کو جس میں ہمیشہ ہمیش رہنا ہوتا ہے زندگی نہ کہیں اور اس کا نام زندگی نہ رکھیں۔موت دراصل تبد یلئی حالت کا نام ہے اور دراصل زندگی اس کے بعد شروع ہوتی ہے جو دائمی ہے اس لئے یہاں بھی کثرت و قلت کا لحاظ ہوگا اور جس کی کثرت ہوگی۔وہی حقیقی زندگی ہو گی۔اور وہ وہی زندگی ہے جو اس فانی زندگی کے بعد ہے اس بارے میں مال و جان کا کوئی سوال نہیں رہ جاتا۔کیونکہ انسان دنیا میں مال و جان کو اپنا مقصد نہیں سمجھتا۔بلکہ عزت اور نیک نامی کو اصل چیز