خطبات محمود (جلد 9) — Page 247
247 ہو اس وقت آپس کی لڑائی کی کوئی پرواہ نہیں کی جا سکتی۔چند دن ہوئے ایک سوال پیدا ہوا ہے اور وہ مدینہ منورہ کی لڑائی کے متعلق ہے۔اس میں ہمارے دخل دینے سے ممکن ہے مسلمان ناراض ہوں لیکن ہمیں ان کی اس قسم کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں ہمارا حق ہے کہ ہم اس معاملہ میں دخل دیں کیونکہ ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر کوئی قوم رسول کریم ﷺ کی سچی فرمانبردار ہے تو وہ ہماری جماعت ہے اگر کوئی جماعت آنحضرت ا کی حقیقی روحانی اولاد اس وقت ہے تو وہ ہماری جماعت ہی ہے۔اگر آنحضرت ﷺ کی عزت پر قربان ہو جانے والے کوئی لوگ ہیں تو وہ ہم ہی ہیں پس ہم جو خیالات ظاہر کریں وہ اس حق کی وجہ سے ہیں جو رسول کریم ان سے سے تعلق کے باعث ہمارا ہے اور آپ کے احترام و ادب کی ذمہ داری اگر کسی پر ہے تو وہ ہماری ہی جماعت پر ہے پس ان لوگوں کے کہنے سے ہمارا یہ حق زائل نہیں ہو جاتا اور ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔بہت سے لوگ واقف ہوں گے کہ نجدیوں کی شریفوں کے ساتھ جو لڑائی ہو رہی ہے اس میں نجدیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے بعض مقامات کی دیواریں شکستہ ہو گئی ہیں اور بعض کے قبے گر گئے ہیں مسجد نبوی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔حتی کہ رسول کریم ان کے روضہ مبارک کی عمارت پر بھی اثر پڑا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسے پارٹیوں گروہوں اور فرقہ بندیوں کا سوال بنا لیا ہے ایک فریق مقامات مقدسہ کی توہین کے خلاف اس لئے آواز اٹھا رہا ہے کہ اسے نجدیوں سے عداوت ہے اور دوسرا فریق مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچنے سے آگاہ ہوتا ہوا اس لئے نجدیوں کی حمائت کر رہا ہے کہ اسے خاندان شریف مکہ سے عداوت ہے جس کے خلاف نجدی بر سر پیکار ہیں اور جس کی بجائے خود مدینہ پر قابض ہونا چاہتے ہیں اس طرح یہ لوگ اس نہایت اہم اور ضروری معاملہ میں دخل دے رہے ہیں اور وہ چیز جو ان دونوں گروہوں کے مد نظر ہونی چاہیے تھی وہ ان میں نہیں ہے وہ چیز ہے محبت رسول ﷺ اب یہ لڑتے تو ہیں لیکن رسول کریم کی محبت کے لئے نہیں بلکہ اپنی اپنی ذاتی عداوت کے لئے۔حالانکہ ایسے موقع پر ان کی یہ روش نہایت ہی معیوب ہے۔دیکھو ایک باپ کے بیٹے آپس میں تو لڑ سکتے ہیں لیکن وہ باپ سے نہیں لڑ سکتے اور جب باپ کی عزت اور حرمت کا سوال ہو تو اس وقت ان کی لڑائی نہایت ہی شرمناک ہے۔نجدی شریفوں کے ساتھ تو جنگ کر سکتے ہیں اور ان پر گولہ باری بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ