خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 239

239 ضرورت تھی یا اس عمدہ پر کسی کو کھڑا کرنے کی کیا حاجت تھی۔اس صورت میں یہ سوال یکساں طور پر تمام انبیاء پر پڑے گا۔کہ وہ کیوں آتے رہے اور آکر کیا کرتے رہے۔پس سوال یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی نبی کو خدا تعالیٰ نے کیوں بھیجا اور اس نے آکر کیا کیا۔اس میں حضرت مرزا صاحب کی خصوصیت نہیں ہونی چاہیے۔یہی سوال حضرت عیسی کے متعلق ہونا چاہیے۔یہی سوال حضرت محمد کے متعلق ہونا چاہیے۔یہی سوال حضرت زکریا کے متعلق ہونا چاہیے۔یہی سوال حضرت داؤد کے متعلق ہونا چاہیے۔یہی سوال حضرت موسیٰ کے متعلق ہونا چاہیے یہی سوال حضرت یوشع" کے متعلق ہونا چاہیے۔یہی سوال حضرت ابراہیم لوط صالح، شعیب نوح اور آدم علیہ السلام کے متعلق ہونا چاہیے۔غرض یہی سوال تمام دوسرے نبیوں کے متعلق ہونا چاہیے۔خواہ قرآن شریف الله الله میں ان کا ذکر مذکور ہو یا نہ ہو کہ کیا غرض پیش آئی جو خدا تعالیٰ نے ان کو بھیجا۔یہ کہنے سے میری غرض یہ نہیں کہ میں الزامی جواب دوں۔بلکہ یہ غرض ہے کہ ایسے لوگوں کو اس سوال کا جواب سمجھنے میں آسانی ہو جو پہلے انبیاء کو مانتے ہیں۔پھر یہ طریق میں نے اس لئے بھی اختیار کیا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دماغ میں کسی امر کے متعلق عجیب و غریب نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔مثلاً یہی کہ وہ خیال کر لیتے ہیں۔نبی وہ ہوتا ہے جو فلاں کام کرے۔اب اگر وہ دنیا کی کایا بھی پلٹ دے تو بھی وہ اسے نہیں مانیں گے۔بلکہ یہی کہتے چلے جائیں گے کہ جب تک وہ بات پوری نہیں ہوتی جو ہم کہتے ہیں تب تک ہم نہیں مانیں گے۔ایسے لوگوں کی مثال حضرت خلیفہ اول اس نٹ سے دیا کرتے تھے۔جو میں نہ مانوں کہا کرتا ہے۔تماشا کرنے والا بانس پر الله چڑھ کر کبھی پھر کی کی طرح پیٹ کے بل اس پر پھرتا ہے۔کبھی کھڑا ہوتا ہے۔کبھی سر نیچے کرتا ہے۔کبھی اوپر اٹھتا ہے۔غرض کہ وہ کئی طرح پر اپنے کمال دکھاتا ہے۔مگر اس کے ساتھ کا ہی ایک اور شخص جو نیچے کھڑا ہوتا ہے تماشہ میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے ہر کھیل کے ختم ہونے پر یہ کہہ دیتا ہے۔”میں نہ مانوں میں نہ مانوں" وہ غریب تو ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ شخص اس کے کرتب کی داد دے لیکن وہ اس کے کسی بھی کمال کو نہیں مانتا اور جب بھی وہ پوچھتا کہ کیا یہ تو مانو گے تب وہ ” میں نہ مانوں میں نہ مانوں" کہہ دیتا ہے۔پس ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ نبی خواہ کتنا بھی کام کر جائے مگر چونکہ وہ ان کے اس کام کے مطابق نہیں ہوتا۔جسے وہ اپنے خیال میں نبی کا کام سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں۔اس لئے وہ مانتے نہیں اور اس نٹ کی طرح یہی کہتے چلے جاتے ہیں " میں نہ مانوں"۔میں نہ مانوں"۔یہ محض نفس کا دھوکہ ہوتا ہے۔جس میں انسان پھنس کر کام کو دیکھ کر بھی