خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 204

204 پس ان مشکلات کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے۔کہ سب سے زیادہ اہم کام انبیاء کے حصے میں آتا ہے۔اس لئے کہ وہ یہ غرض رکھتے ہیں کہ دنیا کے خیال اور دنیا کے عقائد کو بدل ڈالیں۔پھر وہ ایسے لوگوں کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔جن میں اور ان میں کوئی اتحاد نہیں ہوتا۔پھر وہ ایسی حالت میں ان کے سامنے آتے ہیں کہ وہ بظاہر کمزور بے سامان اور غریب ہوتے ہیں اور دنیا خیال کرتی ہے کہ ان کا دعوئی اصلاح نیک نیتی پر مبنی نہیں۔اس لئے وہ ان کی مخالفت پر کھڑی ہو جاتی ہے۔اور اسی خیال کے ماتحت وہ ان کے مقابلہ پر ضد سے کام لیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر نبی کے زمانہ میں شریر لوگ پیدا ہوتے چلے آئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے پر فرعون تھا۔جس نے کہا یہ ایک معمولی سا آدمی ہے ہم اس کو ہر گز نہیں مان سکتے۔پھر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی کہا گیا کہ یہ بڑا بننا چاہتا ہے چنانچہ کفار نے آپ سے کہا بھی کہ آپ بڑا بننا چاہتے ہیں۔تو ہم آپ کو بڑا بنا دیتے ہیں۔اگر آپ دولت کی خواہش رکھتے ہیں۔تو ہم آپ کے لئے دولت جمع کر دیتے ہیں۔(1) ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بھی کہا گیا۔غرض انبیاء ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ اپنی عزت اور بڑائی کے لئے کام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس ڈھنگ سے دنیا کو قبضہ میں لائیں۔غرض انبیاء کے متعلق ابتدا ہی سے بدظنی پر بنیاد ہوتی ہے۔اہل دنیا سے انہیں کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ان کے پاس کوئی سامان نہیں ہوتا کوئی تعلقات نہیں ہوتے۔کوئی رتبہ اور شان نہیں ہوتی اس حالت میں ایک نبی دعوی کرتا ہے جسے سن کر لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ چاہتا ہے کہ ہم پر سردار بن جائے اور وہ ہمیشہ مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس قسم کی مخالفتوں کے انبیاء نے زمانے کی رو کے برخلاف چل کر لوگوں کی اصلاح کی اور کامیابی حاصل کر لی۔بعض لوگ نادانی سے ہر شخص کی کامیابی کو معجزہ قرار دے لیتے ہیں۔حالانکہ وہ کامیابی جسے اسے وہ کامیابی سمجھتے ہیں۔حقیقی کامیابی نہیں ہوتی مثلاً جیسے پچھلی صدی میں یورپ میں ہوا۔نپولین جو بعد ازاں شہنشاہ بن گیا فرانس کی بغاوت کے ایام میں پیدا ہوا۔یہ ایسے دن تھے کہ تمام ملک میں بغاوت پھیلی ہوئی تھی۔اور ہر ایک شخص ملک سے باغیوں کو نکالنے پر تلا کھڑا تھا۔اور دن رات اسی کوشش میں لگا رہتا تھا۔چنانچہ ان دنوں میں جب کہ وہ ابھی پیدا ہی ہوا تھا۔بڑے بڑے مصنف لوگوں کو اکسا رہے تھے۔اور بڑی بڑی زبر دست تصنیفیں اس بارے میں لکھی جا رہی تھیں تو یہ دن بغاوت کے تھے اور ایسے وقت میں لوگوں کو راہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔سو نپولین پر لوگوں کی نظر پڑی۔اور انہوں نے اسے اپنا کماندڑ بنا لیا وہ چونکہ بہادر اور نیک تھا۔آخر بادشاہ ہو گیا۔مگر کیا یہ