خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 202

202 اختیار کیا ہے۔اس پر عمل درآمد کیا جائے تو دس سال کے اندر اندر اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق والی قوم بدترین جماعت ہو سکتی ہے۔اور اگر اس تعلیم کو اپنے اپنے موقع پر چسپاں نہ کیا جائے۔تو جس طرح آج ہم عیسائیوں کے سامنے حضرت مسیح کی اس تعلیم کو کہ اگر کوئی تمہاری ایک گال پر طمانچہ مارے۔تو دوسری بھی اس کے سامنے کر دو (۲) پیش کر کے انہیں شرمندہ کرتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم بھی حضرت مسیح موعود کی اس تعلیم کو عام کریں گے تو قوم کے اخلاق بگاڑنے والے بنیں گے۔اور پھر نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح عیسائیوں کی اس تعلیم پر لوگ ہنستے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی اس تعلیم پر بھی نہیں گے۔پس ہر سخنے وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد۔حضرت مسیح کی اس تعلیم کو پیش کر کے جب لوگ کسی پادری پر پہنتے ہیں۔تو اس سے اس پادری کی ہتک نہیں ہوتی بلکہ اس تعلیم کا مقصد نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت مسیح کی ہتک ہوتی ہے۔اسی طرح اگر ہم بھی حضرت مسیح موعود کی اس تعلیم کو موقع پر چسپاں نہیں کریں گے۔تو نہ صرف ہم پر ہنسی ہو گی۔بلکہ لوگ حضرت مسیح موعود پر بھی ہنسی کریں گے۔چونکہ میری طبیعت اچھی نہیں۔اس لئے میں اپنے خطبہ کو اسی پر بس کرتا ہوں۔اس کے بعض اور پہلو بھی ہیں۔جو کسی اور وقت اللہ تعالٰی نے توفیق دی تو بیان کروں گا۔اور وہ بھی اخلاق ہی کے متعلق ہیں۔ا مشكوة كتاب الحدود باب في حد الخمر ۲- متی (الفضل ۲۳ جولائی ۱۹۲۵ء)