خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 180

180 کے لئے برابر ہے۔ایسے شخص کو اس امر پر خوش ہونے کا کوئی حق نہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سب تعلیموں سے اعلیٰ ہے اور اس کے ذریعہ وہ سب پر غلبہ پا سکتا ہے۔افسوس که مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم نے قرآن کو خدا کو اور خدا کے رسول کو مان لیا ہے اس لئے اس میں ایسی فضیلت حاصل ہو گئی ہے۔کہ کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں۔گویا قرآن کریم کی اعلیٰ تعلیم جس کے ذریعہ وہ دوسروں پر غلبہ پالیتے ہیں وہی ان کو غافل کرنے کا باعث بن گئی۔اس تعلیم کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں ہمیں بہت بڑی فضیلت حاصل ہو گئی۔حالانکہ فضیلت اس شخص کو نہ ملی جو اس تعلیم کو پیش کر کے جیت گیا بلکہ اس تعلیم کو فضیلت ہوئی جس نے غلبہ حاصل کیا۔اس شخص کو تو فضیلت تب ملتی جب اس کا اپنا عمل بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اچھا ہوتا۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے جھوٹ نہ بولو۔اب اگر ایک مسلمان جھوٹ بولتا ہے۔مگر ایک ہندو نہیں بولتا تو مسلمان کو اس لئے ہندو پر فضیلت حاصل نہ ہو گی۔کہ قرآن کریم میں جھوٹ کی ممانعت لکھی ہے۔بلکہ ہندو کو اس مسلمان پر اس بارے میں فضیلت ہو گی۔اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تعلیم کو پیش کر کے جیت جاتا ہے۔تو یہ قرآن کریم کی تعلیم کی فضیلت ہے نہ کہ اس شخص کی اگر دیانت میں امانت میں اخلاق میں غیر مذہب کا شخص ایک مسلمان سے اعلیٰ ہے تو وہ اس سے بہتر ہو گا مگر مسلمانوں کو اپنے اخلاق کی اصلاح کرنے میں ایک یہ بات روک ہو گئی کہ انہوں نے سمجھ لیا جب قرآن کریم کی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے تو یہی بات ہماری فضیلت کے لئے کافی ہے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں اس وجہ سے وہ اپنے اخلاق کی درستی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔دوسرے ایک اور اعلیٰ درجہ کی قرآن کریم کی تعلیم ہے جو انسانوں کو پاکیزہ کرنے اور خدا کے محبوب بنانے کے لئے آئی ہے۔اس کے غلط استعمال سے بھی گمراہ ہو گئے ہیں۔وہ شفاعت کی تعلیم ہے۔شفاعت کے معنی ایک کو دوسرے سے جوڑ دیتا ہیں۔شفع دو کو جوڑ دینے کو کہتے ہیں۔اور شفیع اسے جو کسی کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔تو شفاعت کا یہ مطلب تھا کہ ایک ایسا مسلمان جو رسول کریم ﷺ کا نمونہ بننے کی پوری پوری کوشش کرے گا۔اس میں اگر بعض نقص بھی رہ جائیں گے جن کی وجہ سے وہ باوجود کوشش اور محنت کے رسول کریم اللہ کا جوڑا نہ بن سکے تو آپ اس کے متعلق فرمائیں گے کہ یہ میرا جوڑا ہے۔گو اس میں بعض نقائص رہ گئے ہیں مگر اس نے چونکہ کامل ہونے کی کوشش کی ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اسے میرے ساتھ رکھا جائے۔یہ مفہوم ہے شفاعت کا کہ بعض لوگ جو کچی کوششوں کے باجود بعض کمزوریوں اور نقائص کے باعث