خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 167

167 کے لئے سکھ نہیں ہوتا۔قرآن شریف ایک قوم کی یہ مثال پیش کرتا ہے کہ اس نے دیکھا گھٹا ٹوپ بادل اٹھا ہے۔انہوں نے سمجھا اب بارش ہو گی اور ان کی کھیتیاں سیراب ہو کر خوب سرسبز اور شاداب ہوں گی۔لیکن جب وہ بادل آیا تو ایسا برسا کہ بجائے سیرابی اور شادابی کے ان کے لئے تباہی اور بربادی کا موجب بنا۔مومنین کی حالت بالکل اس کے برعکس ہوتی ہے۔مومنین کے لئے جب ایسے امکان پیدا ہو جاتے ہیں۔جن سے بظاہر ان کی تباہی اور بربادی نظر آتی ہے تو خدا تعالیٰ انہیں تباہی اور بربادی کے سامانوں میں سے ان کے لئے ترقی اور کامیابی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔در حقیقت مومن وہی ہوتا ہے کہ جس کا استقلال جس کا حوصلہ جس کی ہمت خطرات کے وقت قائم رہتی ہے۔بلکہ جتنے مصائب اور خطرات زیادہ بڑھتے جاتے ہیں اس کی ہمت اس کا حوصلہ اس کا استقلال بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔اس کی ہمت پست نہیں ہوتی۔جو شخص معمولی حالات اور خطرات میں بالکل خاموش اور سکون کی حالت میں ہوتا ہے وہ زیادہ خطرات کے وقت بھی مطمئن نظر آتا ہے۔کیونکہ دوسرے معمولی حالات میں وہ بڑے خطرات سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتا اور خوف کھاتا ہے۔لیکن جس وقت اس پر حقیقتاً خوف اور مصائب آجاتے ہیں۔اس وقت اس کے دل میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ ان سے ڈرنا تو میرے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہو گی۔اس لئے وہ چوکس اور ہوشیار ہو جاتا ہے۔میں نے پچھلے خطبہ میں جو نصائح بیان کئے تھے مجھے یہ سن کر نہایت خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے طلباء نے اپنے ایمان کا جوش اور اخلاص کا بہترین نمونہ دکھلایا ہے۔میں نے نصیحت کی تھی کہ بچوں کو جفاکشی اور مشقت اور ظاہری حالت کی درستی کی بھی عادت ڈالنا چاہیے۔جفاکشی کی باتوں سے تعلق رکھنے والی ایک بات سر کے اگلے حصہ کے بال کٹوانا تھی۔میں نے بتلایا تھا کہ بچوں کا ایک خاص طرز کے بال رکھنا اور ان کو بنانا سنوارنا زنانہ خصلت ہے اور آج کل ایک طالب علم کو اس قسم کے بال جس قدر اچھے اور پیارے لگتے ہیں وہ ہر ایک شخص خوب جانتا ہے مگر میرے خطبہ کے سننے کے بعد لڑکوں نے جاتے ہی بغیر استادوں کے کہنے کے اپنے بال کٹوا دیئے۔اور مجھے بتلانے والوں نے بتلایا ہے کہ انہوں نے ایسے جوش ، ایمان اور اخلاص سے اور اپنے دل کی خوشی سے بال کٹوائے ہیں کہ ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ پہلے میں کٹواؤں پھر کوئی دوسرا کٹوائے۔جس طرح آنحضرت ایک رویا کی بنا پر جب عمرہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اور کفار مکہ کی مخالفت کی وجہ سے آپ عمرہ نہ کر سکے۔تو صحابہ کو اس پر ابتلاء آیا۔حالانکہ رویا میں اسی سال عمرہ کرنا نہیں بتایا گیا الی