خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 161

161 لڑکوں کو بری عادتیں پڑ جاتی ہیں وہ امیر لڑکوں کو تاڑتے رہتے ہیں۔اور آوارہ گرد لڑکے اپنی بد عادات کے پورا کرنے کے لئے امیروں کے لڑکوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔مجھے نہایت حیرت ہوئی اپنے ایک عزیز دوست پر کہ وہ اپنے بچے کو پچاس روپیہ ماہوار صرف جیب خرچ دیتے تھے اور ابھی کہتے تھے میں نے اس کا جیب خرچ آگے سے کم کر دیا ہے۔میں اس لئے اسے اتنا جیب خرچ دیتا ہوں کہ تا قادیان میں اس کا دل لگا رہے وہ ایک مخلص شخص ہے اور ان کا لڑکا بھی گو ابھی بچہ ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں مخلص ہے۔مگر یہ طریق بچے کے اخلاق کو سخت بگاڑنے والا ہے۔بچے کو اس کا جیب خرچ روزانہ اتنا دینا چاہیے جس سے اس کی اس وقت کی ضرورت پوری ہو جائے۔پھر ماں باپ کو یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ جس ضرورت کے لئے اس نے پیسے لئے ہیں۔اس پر اس نے خرچ بھی کئے ہیں یا نہیں۔پہلے اس سے دریافت کر لینا چاہیے کہ کس ضرورت کے لئے وہ پیسے لیتا ہے۔مثلاً وہ خربوزے لینا چاہتا ہے۔یا آم خریدنا چاہتا ہے یا کیا اور پھر اس بات کی تحقیق کر لینی چاہیے کہ بتائی ہوئی ضرورت کے مطابق اس نے چیز لی بھی ہے یا نہیں۔اگر اس طرح نگرانی کی جائے۔تو بچے آوارگی سے بچ جائیں گے اور ان کے پاس آوارہ اور بد عادات کے لڑکے جمع نہ ہو سکیں گے۔دوسرا نقص بچوں کے اخلاق کو بگاڑنے والا غربت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اور وہ اس طرح کہ ایسے ماں باپ بعض دفعہ خود حریص ہوتے ہیں۔وہ کوئی چیز لاتے ہیں تو خود کھا لیتے ہیں۔اور بچہ کو نہیں دیتے اس لئے بچہ گھر سے چوری چیز نکال کر کھانے کا عادی ہو جاتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ باہر کی بھی چوری کرنے لگ جاتا ہے۔اس طرح اس کے اخلاق خراب ہو جاتے اور وہ آوارہ ہو جاتا ہے۔اس لئے ماں باپ کو چاہیے کہ اگر کوئی چیز گھر میں آئے تو پہلے بچوں کو دیں پھر آپ کھائیں۔دوسرا نقص جو اس غربت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے وہ اس طرح کہ بعض ماں باپ ایسا تو نہیں کرتے کہ چیز خود کھا لیں اور بچے کہ نہ دیں لیکن جب بچے کے دل میں کسی چیز کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ خود نہیں خرید سکتے تو وہ دوسروں سے مانگ کر کہ ہمارے بچے کا بھی دل کر رہا ہے اس طرح وہ دے دیتے ہیں۔مگر اس طریق سے بجائے اس کے کہ بچے کی خواہشات کو ماریں اور بھی اس کی خواہشات کو ابھارتے ہیں۔حالانکہ اگر بچے کو سمجھایا جائے کہ بچہ ہم غریب ہیں ہم یہ چیز نہیں خرید سکتے تو بچے جیسا صابر بھی کوئی نہیں۔وہ اتنا کہہ دینے سے بھی خوش ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اپنے