خطبات محمود (جلد 9) — Page 138
1 138 کمرہ عدالت سے باہر آکر وہ اس چور کے ساتھ بھی دوستانہ اخلاق کے ساتھ پیش آسکتا ہے۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مجرم اور چور جب اس کے گھر پر اگر ملتا ہے تو وہ اچھی طرح اور اخلاق کے ساتھ ملتا ہے۔لیکن کمرہ عدالت کے اندر وہ ایسا ہر گز نہیں کرتا۔کیونکہ یہاں وہ ایک مجسٹریٹ اور فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے بیٹھا ہے۔اس وقت وہ اسی نام سے مجرم کو پکارے گا جس جرم کا اس نے ارتکاب کیا ہو گا۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بعض سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو وہ بطور جج اور مجسٹریٹ کے آپ نے استعمال کئے ہیں۔لیکن حضرت صاحب کی ذات جب بولتی ہے۔تو وہاں آپ یہی فرماتے ہیں۔گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اور ہمیں بھی آپ یہی تعلیم دیتے رہے ہیں کہ دوسروں کی سختیوں کو صبر کے ساتھ جھیلو اور ان کی گالیاں سن کر جواب نہ دو۔لیکن ہم میں سے کئی ایسے ہیں کہ جب مخالفین کی طرف سے ان پر کوئی سختی ہوتی ہے تو وہ بہت گھبرا جاتے ہیں۔اور یہاں لکھتے ہیں کہ اس کا انتظام کیا جائے اور امور عامہ کو کارروائی کرنے کے لئے کہا جائے۔حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک وہ زمانہ تھا جب امور عامہ بھی نہ تھا اور لوگوں پر آج کی نسبت بہت زیادہ سختیاں ہوتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت صاحب لاہور گاڑی میں بیٹھے جا رہے تھے کہ آپ پر شہر کے بدمعاش پتھر پھینکتے جو آپ کی گاڑی پر آکر لگتے تھے۔اس وقت کہاں امور عامہ تھا جب آپ پر پتھر پھینکے جاتے تھے۔لیکن حضرت صاحب کے ماتھے پر بل تک نہ پڑتا تھا۔اسی کا یہ اثر ہوتا تھا کہ انہی لوگوں میں سے سینکڑوں حضرت صاحب کی غلامی میں آکر داخل ہو جاتے تھے۔اب ہم بھی اگر مخالفین کی سختیوں کے مقابلہ میں یہی اخلاق دکھائیں تو وہی جو ہم پر سختیاں کرتے ہیں۔دکھ دیتے اور ہماری دل آزاری میں لگے ہوئے ہیں۔انہی میں سے ہمارے حقیقی دوست اور پورے ہمدرد پیدا ہو جائیں۔حضرت عمروبن العاص کہتے ہیں۔ایک زمانہ مجھے پر ایسا تھا کہ میں رسول کریم ﷺ کی شکل بوجہ حسد اور بغض کے نہیں دیکھا کرتا تھا۔اور میں ہمیشہ یہ چاہتا تھا کہ کوئی ایسا وقت نہ آئے جب میں اور آپ ایک چھت کے نیچے جمع ہوں۔لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ جب میں بوجہ محبت۔جلال اور عظمت حضور کی شکل نہ دیکھ سکتا تھا۔اور اب اگر کوئی شخص مجھ سے آگر آپ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا۔کیونکہ میں نے ساری عمر آپ کے چہرہ مبارک کو نظر بھر کر نہیں