خطبات محمود (جلد 9) — Page 86
86 کہ بغیر ٹہنیوں کے پاؤ بھر مل کھانے سے پانچ روپے انعام کیونکر دیں گے۔گویا وہ ٹہنیوں سمیت بھی کھانے کے لئے تیار تھا۔حالانکہ باتیں کرنے والے اتنے مل کھانا نا ممکن خیال کر رہے تھے۔اب ان دونوں کے احساس میں کتنا بڑا فرق ہے۔ایک تو وہ ہیں کہ پاؤ بھر مل کھانے ناممکن خیال کرتے ہیں اور ایک وہ ہے کہ جو بمع ٹہنیوں کو کھانے کے لئے تیار ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بغیر ٹہنیوں کے تو یہ بہت معمولی مزے کی بات ہے۔اس پر کب پانچ روپے انعام مل سکتے ہیں۔پس دنیا میں جس قدر فرق ہے وہ احساسات کا ہے۔ورنہ نتائج اور کیفیات میں کوئی فرق نہیں۔گرمی اور سردی جو اثر ایک تیز حس والے انسان پر کرتی ہے۔وہی اثر ایک کم حس والے انسان پر بھی کرتی ہے لیکن ایک تو اس کے اثر کو محسوس کرتا ہے اور دوسرا انہیں احساسات کی کمی کی وجہ سے اس کے اثر کو محسوس نہیں کرتا۔اسی طرح سورج کی روشنی کو لوگ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔جو اس کی اہلیت رکھتے ہیں مگر جو اس کے اثر کو محسوس کرنے کی اہمیت نہیں رکھتے یہ نہیں ہوتا کہ ان کو روشنی نہ پہنچ رہی ہو یا دھوپ کے جو اثرات ہیں وہ ان پر نہ ہو رہے ہوں۔وہ اثرات دونوں پر ہوتے ہیں۔ان پر بھی جو انہیں محسوس کرتے ہیں اور ان پر بھی جو محسوس نہیں کرتے۔گو علی قدر مراتب اثرات پہنچ رہے ہیں۔مگر پہنچ ضرور رہے ہیں۔آگے جو فرق ہے وہ ان کے احساس میں ہے۔پس جب مادی امور میں علی قدر مراتب اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔خواہ کوئی محسوس کرے خواہ نہ کرے۔تو پھر یہ کس قدر غلط بات ہے۔اگر ایک شخص نماز کے اثرات کو محسوس نہ کر کے یہ کہہ دے کہ نماز کا کوئی فائدہ یا اثر ہی نہیں۔ہاں وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنے روحانی احساسات کی کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی فائدہ مجھے نظر نہیں آتا اور اس کا اثر مجھے محسوس نہیں ہوتا۔ورنہ اس کا اثر اس کو بھی ہوتا ہے جو اس کے اثر کو محسوس کرتا ہے۔اور اس کو بھی جو محسوس نہیں کرتا۔گو دونوں کو اثر علی قدر مراتب پہنچتا ہے۔مگر پہنچتا ضرور ہے۔بہر حال روحانی معالمہ میں روحانی امور کے اثرات کے متعلق بھی ان لوگوں کی شہادت قابل قبول نہیں ہو سکتی جن کی روحانی حسیں کمزور اور کند ہیں۔اور انہی کی بات تسلیم کرنی پڑے گی جو روحانی امور کے اثرات کے محسوس کرنے کے اہل ہیں۔وہ اگر کہہ دیں اور شہادت دے دیں کہ نماز روزہ کا فائدہ ہوتا ہے۔اور ان کے اثر کو ہم محسوس کرتے ہیں تو پھر دوسرے لوگوں کو بھی جن کی حسیں موٹی ہیں اور وہ ان کے اثرات اور فوائد کو محسوس نہیں کر سکتے قبول کرنا پڑے گا کہ بے شک