خطبات محمود (جلد 9) — Page 69
69 کے فتوؤں کی وجہ سے شہید کئے گئے۔اگر کوئی ایک بھی ایسی مثال پیش کر دی جائے کہ ان مولویوں کے پاس اپیل کرنے سے انہوں نے اپنے فیصلہ کو بدل دیا ہو اور انہوں نے اعلان کر دیا ہو کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے تو ہم ان ملانوں کے پاس اپیل نہ کرنے کی غلطی کا اعتراف کریں گے۔اور ہم جوابدہ ٹھریں گے۔لیکن اگر آج تک کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی۔تو پھر یہ کہنا عدل و انصاف کے خلاف ہے کہ ہم نے ان کے پاس اپنی مصیبت کے لئے اپیل کیوں نہیں کی۔خواہ کوئی کتنا ہی متعصب کیوں نہ ہو۔کون کہہ سکتا ہے یا امید بھی کر سکتا ہے کہ ان مولویوں کے پاس اپیل کرنے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔پس افغانی گورنمنٹ کی مجبوریوں کو جو اس کے خیال میں مجبوریاں ہیں۔مد نظر رکھ کر اور ان علماء کے ان فتووں کو مد نظر رکھ کر اور وہ بھی اس بناء پر کہ انہوں نے اپنے فتویٰ کو شریعت پر مبنی قرار دیا ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ ان کے پاس اپیل کرنا یا کوئی اور کوشش نفع مند ہو سکتی ہے۔پس یہ رستہ تو ہمارے لئے بند ہے۔اس سے ہمیں کچھ نفع نہیں پہنچ سکتا۔ہاں کچھ اور تجاویز بھی ہیں۔جن میں سے بعض انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔کیونکہ سیاسی امور میں ہر ایک بات قابل ذکر نہیں ہوتی بلکہ سیاسی اور دنیاوی مفاد کے لئے ان کا اخفا ضروری ہوتا ہے۔ان میں میں بتلاؤں گا کہ ہم صرف پروٹسٹ ہی نہیں کر رہے بلکہ ہم عملی کام بھی کر رہے ہیں۔میں پہلے بھی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ ہمارے جو بھائی کابل میں قتل ہوئے ہیں۔وہ تو فوت ہو چکے لیکن جو باقی ہیں۔ان کے لئے ہمیں فکر ہونی چاہیے۔اور اس کا بہتر علاج یہی ہے کہ ہم توجہ کے ساتھ کابل کے احمدیوں کے لئے دعائیں کریں۔اور خصوصیت کے ساتھ ان مظلوموں کے لئے جو وہاں گرفتار ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہر قسم کے ظلموں سے نجات دے۔ہم کمزور ہیں لیکن ہمارا خدا طاقتور ہے۔وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔میرے نزدیک وہ جو ان مظلوم بھائیوں کے لئے دعا نہیں کرتا وہ احمدی کہلانے کا مستحق نہیں۔پس ان کے لئے دعائیں کرو۔اور بار بار کرو اور بجز و انکسار کے ساتھ کرو۔ا مجمع بحار الانوار جلد ۲ باب ) آلسین الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۲۵ء) ۲۔اس نجاشی کا نام اصحمہ ہے۔(سیرت خاتم النبین حصہ اول مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) میرت ابن ہشام حالات ہجرت حبشه