خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 49

49 آج جس حصہ کے بیان کرنے کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔وہ ایک شبہ ہے جو اس تحریک کے متعلق پیدا ہوا ہے۔جو چندہ کے متعلق کی گئی ہے۔دو خط مجھے پہنچے ہیں۔ایک بھیرہ سے اور ایک سیالکوٹ سے۔ایک کے نیچے تو نام لکھا ہے مگر ایک بے نام ہے۔خطوط لکھنے والوں نے اپنے خط میں یہ شبہ پیش کیا ہے کہ دس لاکھ کی جماعت میں اگر دو آنے فی کس بھی چندہ لیا جائے تو سوا لاکھ کی رقم ہو سکتی ہے۔پھر ہر ایک احمدی کو ایک ماہ کی آمدنی دینے کی کیا ضرورت ہے۔جب کہ جماعت کی تعداد آٹھ دس لاکھ بتائی جاتی ہے۔بہت ممکن تھا کہ ایسا شبہ پیدا ہو اور عقلی طور پر اگر دیکھا جائے تو شبہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے۔تو یہ شبہ ناواقفیت اور علم کی کمی کا نتیجہ ہے۔کیونکہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے۔تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ منتظم جماعت دس لاکھ کے قریب ہے لوگ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چونکہ ساری کی ساری جماعت منتظم نہیں اس لئے سب سے باقاعدہ چندہ وصول نہیں ہو سکتا۔وہ خود ہی اپنے اخلاص سے کچھ دے دیں تو دے دیں۔ورنہ ایک بڑے حصہ سے مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔پھر اس تعداد میں عورتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اور ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خود بخود کوئی حرکت نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے اٹھائے اٹھتے ہیں۔جب تک کوئی ان کے پاس پہنچے نہیں وہ کسی تحریک میں شامل نہیں ہوتے۔اور بعض تو ایسے ہیں کہ ان کے پاس پہنچنا ہی مشکل ہے۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت دس لاکھ کے قریب ہے تو اس سے دنیا کی ساری قوموں کے احمدی مراد ہوتے ہیں۔پس اس میں وہ احمدی بھی شامل ہوتے ہیں جو افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں رہتے ہیں۔ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ چندہ دیں اور تحریکوں میں شامل ہوں۔خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ حکومت کابل کو اگر کسی کے احمدی ہونے کی خبر ملے تو اسے سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ان کے اوپر بہت بڑی حسن ظنی ہے۔مگر معترض کو اس بات کا کوئی خیال نہیں آیا۔پھر اس تعداد میں وہ بہت سی نئی جماعتیں بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے ابھی ایمان کے چشمے پر ڈیرے ہی ڈالے ہیں۔لیکن انہوں نے ابھی تک اس سے پانی نہیں پیا۔ان سے بھی اس قسم کی قربانیوں کی امید رکھنا یا مطالبہ کرنا خلاف عقل ہے۔پھر ان میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو سلسلہ کے کاموں سے ایک حد تک تعلق رکھتی ہیں۔لیکن ان پر بعض حالات کے ماتحت اتنا بوجھ ہے۔اور مقامی ضروریات کے لئے ان کو اتنا کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے کہ جو ہماری موجودہ شرح چندہ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔اس پر ان سے اگر اور