خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 48

48 کریں گے خدا تعالٰی ضرور ان پر اپنے خاص فضل اور برکتیں نازل فرمائے گا۔پس اس کی طرف میں پھر اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کی طرف متوجہ ہوں۔میں اس امر پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت میں ایسا اخلاص پیدا کیا ہے۔کیونکہ خدا تعالی فرماتا ہے۔لئن شكرتم لازیدنکم خدا تعالیٰ کی جس نعمت کا شکر کیا جاتا ہے اس میں وہ اور اضافہ فرما دیتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی میرے خیالات کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کو کم اہم سمجھا گیا ہے۔حالانکہ وہ بھی بہت اہم ہے اور اس کے لئے بھی بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔اس وقت دنیا میں ایسی قوم جس کی طاقت اور جس کی قربانیاں دشمن کے مقابلہ میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں وہ وہ جماعت ہے جو احمدی جماعت کہلاتی ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں تاریخ میں حضرت آدم کے زمانہ سے لے آج تک کسی قوم کے ذمہ اتنا بڑا کام نہیں ہوا جتنا کہ ہمارے ذمہ ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ تمام گزشتہ قوموں سے بڑا کام ہمارے ذمہ ہے۔پھر بھی ہماری قربانیاں ابھی تک پہلی قوموں سے بڑھ کر تو الگ رہا ان کے برابر بھی نہیں۔بعض تو ایسی قربانیاں ہیں جن کے کرنے میں ہماری طرف سے کوتاہی ہے۔لیکن بعض ایسی بھی ہیں۔جن کے لئے ابھی تک ہم سے مطالبہ نہیں کیا گیا اور میں جانتا ہوں کہ اگر مطالبہ کیا گیا تو جماعت کا بیشتر اور اکثر حصہ ان قربانیوں کے لئے تیار ہو جائے گا۔مثلاً ہندوستان میں چونکہ ابھی تک جانی قربانی کا موقع ہماری جماعت کو پیش نہیں آیا۔اس لئے اس سے جانی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔حالانکہ ہندوستان میں ہی پیشتر حصہ جماعت کا ایسا ہے کہ اگر اس سے جانی قربانی کا مطالبہ کیا جائے۔تو وہ انشاء اللہ کابل کی جماعت سے پیچھے نہ رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا ہے کہ ہمیں ابھی ایسی قربانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔لیکن اگر وہ چاہے تو ہم میں سے بہت کم ہوں گے جو نعوذ باللہ یہ کہہ دیں گے کہ ہم ایسے ایثار اور قربانی کے لئے تیار نہیں ہیں اور بہت ہیں جو یہ خیال کر کے ہی خوشی اور لذت محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ایسا موقع نصیب ہو۔لیکن باوجود اس کے کہ ان کو اس قسم کی قربانی کا موقع اس لئے نہیں ملا کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔تاہم ایسی قربانیوں کا موقع ان کے لئے موجود ہے جو بظاہر چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ان کے نتائج اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں جتنے جان کی قربانی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔جماعت کو ان قربانیوں کی طرف خاص توجہ کرنی چاہیے۔ان ہی میں سے ایک مالی قربانی ہے۔اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔مگر میں اس وقت اس حصہ کے بیان کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔