خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 397

397 پس یہ ایک نہایت ہی بابرکت کام ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی بھی ایک حیثیت مہمان نوازی کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبوت کے کمالات میں سے مہمان کی خاطر بھی رکھی گئی ہے۔آنحضرت پر جب پہلے پہل کلام اترا اور آپ کو سخت اضطراب اور گھبراہٹ پیدا ہوئی۔تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے کہا۔آپ مہمانوں کی خدمت کرنے والے ہیں۔کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا آپ کو ضائع کرے۔پس چونکہ مہمان نوازی کمالات نبوت کا ایک حصہ ہے بلکہ خدا کی شانوں میں سے ایک شان ہے۔اس لئے اگر اس کو ادا کرتے ہوئے کوئی تکلیف بھی ہو یا بظاہر کوئی ہتک بھی ہو تو بھی اس میں کمی نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ یہاں آنے والے صرف مہمان ہی نہیں۔بلکہ شعائر اللہ بھی ہیں اور و من يعظم شعائر الله فانها من تقوى القلوب (الحج ۳۳) کے ماتحت شعائر اللہ کا اعزاز و اکرام کرنا اس بات کے ہم معنی ہے کہ ہمارے دلوں میں تقویٰ ہے۔پس ایک مہمان ایک میزبان کے تقویٰ کے اظہار اور امتحان کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آنے والوں کی ہر طرح خدمت کی جائے گی۔دیکھو کیا یہاں کوئی سیر کی جگہ ہے۔جس کی خاطر لوگ یہاں آتے ہیں۔یا یہاں کوئی قابل دید مقامات ہیں جن کو دیکھنے کے لئے لوگ آتے ہیں۔کیا یہاں کوئی منڈی ہے کہ خرید و فروخت کے لئے یہاں آتے ہیں۔کیا یہاں کوئی بادشاہ ہے کہ لوگ اس لئے آتے ہیں کہ اگر اس کی نظر میں بچ گئے تو اچھی اچھی نوکریاں مل جائیں گی۔کیا یہاں کوئی اور دنیاوی چیز ہے۔جس کی خاطر لوگ یہاں چلے آتے ہیں کون سی دنیاوی کشش ہے جو لوگوں کو یہاں کھینچ رہی ہے ایک بھی نہیں۔پھر لوگ کیوں یہاں آتے ہیں۔ان کے آنے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ کوئی دنیاوی نہیں بلکہ دینی غرض ہے اور وہ یہ کہ خدا کے نبی نے کہا کہ یہاں تم آؤ تا تمہیں روحانی غذا ملے اور خدا نے اسے کہا کہ تم دن مقرر کرد کہ لوگ سفروں کو طے کر کے یہاں جمع ہوں۔پس قادیان میں لوگ صرف اسی ایک، غرض کے لئے آتے ہیں۔اور صرف اسی روحانی غذا کی خواہش ان کو یہاں لاتی ہے۔پس ہمارا جلسہ شعائر اللہ ہے بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے اور و من يعظم شعائر الله فانها من تقوى القلوب کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے۔وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت دیتا ہے۔شعائر اللہ کی عزت اور قدر نہایت ضروری ہے اور سالانہ جلسہ کا موقع ہم میں سے ہر ایک کے تقویٰ کے امتحان کا وقت ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم اس امتحان میں پورے اتریں۔ہم میں سے ہر ایک کے دل میں مہمانوں کی عزت کے لئے وسعت پیدا ہونی چاہئے اور اگر برخلاف اس کے