خطبات محمود (جلد 9) — Page 392
392 الله کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ شیکسپیئر کا کلام قرآن کریم کے برابر ہے یا شیکسپئیر خود آنحضرت جیسا درجہ رکھتا ہے۔جس طرح عرب کے فصحاء اور بلغاء قرآن کریم کی مثل نہیں لا سکتے۔اسی طرح انگریزوں نے بھی مانا ہے کہ شیکسپئیر کے کلام کی کوئی مثل نہیں لا سکتا مگر کیا اس سے وہ آنحضرت این اے کے برابر ہو گیا ہرگز نہیں کیوں؟ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے جب اس کلام کو پیش کیا تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ وہ کلام ہے جس کی کوئی نظیر نہیں لا سکے گا۔اور نہ ہی اس کی کوئی مشتری لا سکتا ہے۔لیکن شیکسپئیر نے یہ نہیں کہا۔اسے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے کلام میں اس قسم کی منو بیاں ہیں کہ اس قدر مقبول ہو گا۔بلکہ اسے تو خوف رہتا تھا کہ میرا کلام شائد قبول بھی ہو یا نہ۔پس ٹیکسپیئر کا کمال اتفاقی تھا مگر آنحضرت ﷺ کا دعوئی تحری کے ساتھ تھا۔شیکسپئیر کے کلام کی قدر اس کے بعد ہوئی اور اس کے بعد ہی یہ کہا گیا کہ اس کی نقل کرنا امر موہوم ہے یا جنون۔لیکن آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی لوگ باوجود ادیب ہونے اور اس بات کی کوشش کرنے کے کہ اس کی مثل اور نظیر لائیں۔اس کی مثل اور نظیر نہ لا سکے۔اسی طرح ہمارے اس جلسہ کا حال ہے دوسرے عرسوں کے متعلق کسی نے پہلے اس تم کی کوئی خبر نہیں دی کہ یہ ترقی کریں گے لیکن ہمارے جلسہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے خبر پا کر پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ یہ ہر لحظہ ترقی کرتا چلا جائے گا اور ہر سال اس میں آنے والوں کی تعداد میں زیادتی ہوتی رہے گی۔عرسوں میں اگر کوئی ترقی ہوئی تو وہ اتفاقی طور پر ہوئی۔اگر ہمارے جلسہ کو جو ترقی ہو رہی ہے۔وہ بطور پیشگوئی کے ہے۔نہیں عرسوں کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں۔اسی طرح اگر چار پانچ شخص اکٹھے دوڑیں۔تو ان روڑنے والوں میں سے کوئی نہ کوئی تو آگے نکلے گا۔بیشک ان دوڑنے والوں میں سے آگے نکل جانے والے کا کمال ہے۔لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ میں آگے نکل جاؤں گا اور اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایسا ہو گا۔ہاں اگر کوئی لولا یا لنگڑا یہ کہے کہ آؤ میرے ساتھ دوڑو۔تم میں سے کوئی نہیں جو مجھ سے آگے نکل جائے اور فی الواقع اس راز کا نتیجہ یہی ہو کہ اس سے کوئی آگے نہ نکل سکے تو اسے معجزہ قرار دینا پڑے گا اور یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ایک نشان ہے ایسا ہی کسی زبان کے مصنفوں میں سے اگر کوئی مصنف سب سے بڑھ پائے تو بے شک یہ اس کا کمال ہو گا لیکن اس کے کمال کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔جو ایک کلام کے متعلق پہلے ہی کہہ دے کہ کوئی شخص اس کی نظیر نہیں لا سکتا اور فی الواقع اگر کوئی، اس کی نظیر نہ لا سکے تو وہ معجزہ ہو جائے گا۔یہی حال قرآن کریم کی تحدی کا