خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 391

391 خوب تو وزیر چار ہزار درہم کی ایک تھیلی اس شخص کو دے جس کی بات پر بادشاہ ایسا کیے۔چنانچہ بوڑھے کی اس بات پر وزیر نے چار ہزار درہم کی تھیلی اس کو دیدی۔اس پر بوڑھے نے پھر کہا۔اے بادشاہ آپ کہتے تھے۔تمہیں اس درخت کا پھل کھانا نصیب نہیں ہو گا مگر دیکھئے لوگوں کو تو درخت لگا کر پھل کے لئے کئی سال انتظار کرنی پڑتی ہے مگر میرے درخت نے لگاتے لگاتے پھل دے دیا ہے۔اس پر پھر بادشاہ نے کہا "کیا خوب" اور وزیر نے ایک اور تھیلی چار ہزار درہم کی نکال کر اس کو دے دی۔پھر اس نے کہا بادشاہ سلامت اور درخت تو سال میں ایک دفعہ پھل لاتے ہیں مگر میرا درخت لگاتے ساتھ ہی دو دفعہ پھل لایا۔اس پر پھر بادشاہ نے کہا کیا خوب اور وزیر نے ایک اور تھیلی اسے دے دی۔اس پر بادشاہ نے کہا۔کہ چلو۔نہیں تو یہ بوڑھا اپنی باتوں سے ہمیں لوٹ لے گال پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو درخت لگایا۔اسے بھی اسی قسم کی بلکہ اس سے بڑھ چڑھ کر برکت ملی۔اس کا درخت تو دو یا تین بار پھل لا کر رہ گیا لیکن حضرت مسیح موعود کا لگایا ہوا درخت ہر سال پھل لا رہا ہے اور کثرت سے لا رہا ہے۔پس جن لوگوں کے دلوں کی آنکھیں اس بادشاہ کی طرح کھلی ہیں۔وہ جانیں گے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ورنہ نادان تو ان باتوں سے آنکھیں بند کر کے چلا جاتا ہے۔دنیا میں کئی عرس ہوتے ہیں۔بڑے بڑے بزرگوں کی قبروں پر عرس اور میلے لگتے ہیں۔ان میں لوگ کثرت سے جاتے ہیں مگر یہ عرس اور یہ میلے اس قسم کے دینی اجتماع کے برابر نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ ہمارا جلسہ ہے۔یہ سچ ہے کہ ان عرسوں اور میلوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قائم کردہ اجتماع سے کوئی نسبت نہیں۔کیونکہ ان عرسوں کے متعلق کسی نے پہلے نہیں کہا کہ ان میں اس قسم کی ترقی ہوگی۔لیکن ہمارے سالانہ جلسہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ دینی اغراض کے لئے قادیان میں اس موقع پر اس کثرت سے لوگ آیا کریں گے کہ ان کے اس ہجوم سے جو صرف دین کی خاطر ہو گا قادیان کی زمین ارض حرم کا نام پائے گی۔دیکھو وہ شخص جو شیکسپیئر کے کلام کی مقبولیت کو دیکھ کر اسے قرآن کریم کے بالمقابل کھڑا کرنے کی کوشش کرے۔وہ بھی نادان ہو گا بیشک شیکسپئیر کو علم کلام میں جو درجہ حاصل ہے۔وہ کسی کو نہیں۔علم ادب میں وہ اس حد تک ترقی کر گیا تھا کہ اس کی نقل کو بھی اب امر موہوم خیال کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص اس کی نقل کی کوشش کرے تو اسے مجنون کہتے ہیں لیکن باوجود اس