خطبات محمود (جلد 9) — Page 305
305 میرا کیا کر سکتے تھے۔کیا یہ میرا احسان نہیں ہے؟ جب مہمان نے اس قسم کی باتیں کیں۔تب میزبان پر یہ بات کھلی کہ یہ شخص کسی اخلاق کا آدمی ہے۔پس اگر احسان کے یہ معنی ہیں کہ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے تو یہ غلط ہے کیونکہ کسی کو نقصان نہ پہنچانا احسان نہیں اس شخص نے زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کیا تو یہ کیا کہ اسے نقصان نہیں پہنچایا۔اب اس نقصان نہ پہنچانے کو وہ احسان سمجھتا تھا جو سراسر غلط ہے۔بعض آدمی سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور اس پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے احسان کیا۔مگر یہ بات کوئی ایسی بات نہیں جس پر فخر کیا جائے۔کیونکہ کسی کو نقصان نہ پہنچانا احسان نہیں ہے۔بلکہ ظلم سے رکنا ہے اور ظلم سے رکنا اور احسان کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔وہ شخص بڑا ہی احمق ہے۔جو ان دونوں میں تمیز نہیں رکھتا اور میرے نزدیک ظلم سے رکنے کو احسان سمجھنا پرلے درجہ کی مسخ شدہ فطرت کا کام ہے۔احسان یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے قصور کیا ہے اور جس کا اس نے قصور کیا ہے۔اگر وہ یہ دیکھ کر اسے معاف کر دے کہ سزا سے الٹا اثر ہو گا اور بجائے اصلاح کے سزا فساد پیدا کرے گی۔تو یہ احسان ہے۔کیونکہ اس میں اس کی بھلائی مقصود ہے۔چنانچہ بعض لوگ ایسا ہی کرتے ہیں کسی کے قصور کرنے پر وہ دیکھتے ہیں کہ کونسا طریق بہتر ہو گا۔اگر وہ سزا دینے میں بھلائی پاتے ہیں تو اسے سزا دیتے ہیں اور اگر معاف کرنا بہتر نظر آتا ہے تو اسے معاف کر دیتے ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگ قصوروں کی معافی کے لئے تیار نہیں ہوتے اور جھٹ بدلہ لینے پر تل جاتے ہیں۔خواہ بدلہ لینے میں اس سے بڑھ کر ہی نقصان کیوں نہ ہو۔کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔لمبے عرصہ کی بات ہے۔ایک شخص کی بیوی فوت ہو گئی اس کا جنازہ یہاں شہر سے باہر لا کر رکھا گیا۔چونکہ ایسے موقعوں پر عورتوں کا جانا مناسب نہیں ہوتا اور نہ ہی عورتیں میت کے ہمراہ جایا کرتی ہیں۔پھر ان کے لئے ایسے مقامات پر جانا پسندیدہ بھی نہیں۔اس لئے ہمارے ہاں کی عورتیں نہ گئیں۔میں اس وقت قادیان میں نہ تھا۔باہر گیا ہوا تھا۔جب واپس آیا تو میں نے اس شخص کو تعزیت کا خط لکھا۔اس نے جواب میں لکھا۔میں اس تعزیت کا ممنون ہوں۔بے شک آپ نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار فرمایا اور بیشک آپ نے میرے دل کے زخموں پر پھاہا رکھا۔لیکن افسوس کہ آپ کے گھر کی عورتیں اس موقع پر نہ آئیں۔یہ ایسا ظلم ہے کہ میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔اگرچہ اس شخص نے یہ کہا کہ میں اسے کبھی نہیں بھلا سکتا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس