خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 26

26 بنعمته وبك فحدث (الضحی (۱۲) کا حکم ان کے سامنے نہ آجاتا تھا کہ خدا کی نعمت کا اثر کپڑوں کے ذریعہ بدن پر بھی ظاہر کرنا چاہیے یہ نہیں کہ خاص طور پر خدا ان کے آگے قسمیں کھایا کرتا تھا بلکہ یہ وہی قسمیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے سنی ہیں۔وہی قسمیں سید عبد القادر کو ان کی تیزی طبع کی وجہ سے نظر آجاتی ہیں اور ہر ارشاد الہی ان کو نمایاں نظر آجاتا تھا۔کیونکہ جب خدا نے قرآن کریم میں اپنی نعمتوں کا ذکر کر کے ان کی قسمیں کھائیں ہیں تو پھر خدا تو قسم کھا چکا۔اس لحاظ سے خدا قسم کھاتا تھا تب وہ کھاتے تھے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ بہت ہیں جو نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں زکوۃ بھی دیتے ہیں اور چندے بھی ادا کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے ہمدری بھی کرتے ہیں۔مگر وہ برکات جو انہیں حاصل ہونی چاہیئں حاصل نہیں ہوتیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے ظاہری معاملات دینی میں کوئی فرق ہے بلکہ اخلاص اور ارادہ کی مضبوطی میں نقص ہوتا ہے یہی اخلاص اور ارادہ ہی ہے جس نے ابو بکر اور ابو ہریرہ کی شان میں فرق پیدا کر دیا اور یہی اخلاص اور ارادہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے ابو ہریرہ اور آج کل کے ایک عام مسلمان میں فرق ہے۔اخلاص اور نیت کا فرق مرتبہ اور شان میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔نیت اور ارادہ خالی بھی کوئی چیز نہیں کیونکہ عبادات کے لئے یہ ایک روح ہے پس روح بغیر جسم کے کچھ نہیں کر سکتی۔بلکہ وہ مفید تب ہی ہو سکتی ہے کہ جسم بھی ہو اور روح بھی۔پس اگر نیت اور ارادہ کے ساتھ عمل نہیں تو اس کا کچھ فائدہ نہیں اور اگر کوئی اخلاص اور نیت کے ساتھ ایک تسبیح بھی کہتا ہے تو اس کا وہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سالہا سال کی عبادتوں سے بھی نہیں پیدا ہو سکتا اور اگر کوئی انہماک والی توجہ کے ساتھ ایک بار بھی سبحان اللہ کہتا ہے تو اس کا ایک دفعہ کا کہا ہوا کلمہ وہ نتائج پیدا کرتا ہے جو پہاڑوں کی بلندیوں سے بھی بڑھاتا ہے پس اگر تمہارے اعمال کے ساتھ نیت اور اخلاص نہیں یا نیت اور اخلاص کے ساتھ ظاہری اعمال بھی بجا نہیں لاتے تو تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی سو گیا پھر اٹھ بیٹھا۔جس طرح وہ پہلے خالی ہاتھ تھا اسی طرح وہ نیند کے بعد خالی ہاتھ رہا۔یا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بدن پر تیل مل کر اپنے اوپر پانی ڈالتا ہے اور پانی کا ایک قطرہ بھی اس کے بدن پر نہیں ٹھرتا شائد پانی کا کوئی قطرہ تو اس کے بدن کے کسی حصہ پر جہاں تیل نہ لگا ہو رہ بھی جائے مگر ایسے انسان کو جس کی نماز میں اخلاص نہیں کوئی بھی نفع نہیں۔پس تم اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کرو اور دینوی معاملات اور دوستوں میں اپنی نیتوں اور ارادوں کو درست کرو۔کیونکہ بغیر روح کے