خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 23

23 غیرت و قدرت دکھلاتا ہے اور ایک کے لئے نہ وہ غیرت ہے نہ وہ قدرت ہے۔مگر ہے وہ بھی مسلمان۔نمازیں وہ پڑھتا ہے، حج وہ کرتا ہے زکوۃ بھی وہ دیتا ہے۔اگر دونوں کے اعمال ملائے جائیں تو میرے نزدیک ایک عام مسلمان نمازیں زیادہ بڑھ سکتا ہے اور روزے زیادہ رکھ سکتا ہے۔با اوقات ایسا ہوا ہے اور صحابہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو رسول اللہ ا سے زیادہ ساری ساری رات تہجد اور نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو روزے رکھا کرتے تھے اور نہیں تو ایک مالدار تو یقیناً بڑھ کر عمل کرتا ہے کہ وہ زکوۃ ادا کرتا ہے مگر رسول اللہ ا نے کبھی زکوۃ نہیں دی۔کیونکہ نہ آپ کے پاس روپیہ جمع ہوا اور نہ آپ نے زکوۃ دی تو ایک عام مسلمان ظاہری اعمال میں کئی دفعہ زیادہ نظر آتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے معالمہ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس سے وہ معاملہ نہیں جو رسول اللہ سے ہے۔اگر محض نماز و روزہ شریعت تھی اگر محض حج و زکوۃ شریعت تھی تو پھر اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بہت بڑھ کر خدا تعالیٰ کا سلوک ہونا چاہیے تھا اور بہت زیادہ اس کے اعمال کا اس کو نتیجہ ملنا چاہیے تھا۔پھر کیا چیز تھی کہ جس نے رسول اللہ اس کی عظمت اور شان کو تو اتنا بڑھا دیا اور اسے اس کا اتنا اثر نظر نہ آیا۔کیا رسول اللہ اللہ سے خدا تعالیٰ کی کوئی رشتہ داری اور نعوذ باللہ خلاف عدل پاسداری تھی کہ ان کے تو خدا نے حقوق ادا کر دیئے لیکن اس کے ادا نہ کئے۔اس کا ایک ہی جواب اور ایک ہی نتیجہ ہے کہ اس کا ارادہ وہ ارادہ نہیں جس ارادہ کے ساتھ رسول اللہ اللہ کھڑے ہوئے۔اس کی وہ نیت اور اخلاص نہ تھا جس اخلاص اور نیت سے رسول الله الا ان اعمال کو بجا لاتے تھے۔پس اس کی نیت اور اخلاص کے اختلاف سے نتائج میں بھی اختلاف پیدا ہو گیا اس نے سب کچھ وہی کیا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا مگر اس کا ارادہ وہ ارادہ نہیں تھا جو رسول اللہ اللہ اس سال کا تھا اور اس کی نیت وہ نیت نہ تھی جو رسول اللہ کی تھی۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ حضرت ابوبکر نے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درجہ کے متعلق بھی اس وقت لوگوں کے دل میں سوال پیدا ہوا ہے کیونکہ بعض اور صحابہ بھی تھے جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنا سارا مال دیدیا تھا اور ایسے بھی تھے جو عبادت کے لئے مسجد میں ہی رہتے تھے) کہ ابوبکر کو نماز روزہ کی وجہ سے دوسروں پر فضیلت نہیں بلکہ اس کی فضیلت اس چیز کے باعث ہے جو اس کے دل میں ہے اے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت نے اس میں لوگوں کے اس سوال اور شک کا جواب دیا ہے کہ ابو بکر کو ان پر فضیلت کیسے الله ہو گئی۔