خطبات محمود (جلد 9) — Page 270
270 اور توحید بناوٹی طور پر اپنی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن یہ توحید پر تھے اور شرک میں پھنس گئے۔مشرکانہ عقائد اختیار کر لئے۔اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں یہ خواہش تھی کہ توحید پر قائم ہوں اور اس کے لئے کوشش بھی کرتے رہے لیکن کچھ تو مولویوں کی سستی اور نادانی کی وجہ سے اور کچھ شرک اور توحید کی تعریف کی وجہ سے اس بات کو حاصل نہ کر سکے۔بلکہ اور زیادہ شرک میں مبتلا ہو گئے۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا اور آپ نے توحید کو اس رنگ میں دنیا میں پیش کیا کہ شرک بالکل واضح ہو گیا۔آپ نے توحید کی جو تعریف کی وہ یہ ہے کہ خدا تعالی کی صفات دو قسم کی ہیں۔ایک وہ ہیں جو اس کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں ان کا تعلق مخلوق سے نہیں یعنی تنزیہی صفات میں کسی مخلوق کو ظاہری اور باطنی مشابہت نہیں ہو سکتی اور خدا کی کچھ صفات ایسی ہیں جن کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے۔وہ ادنی طور پر بندوں میں بھی پائی جاتی ہیں مگر ان سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ ان صفات کا تعلق بندوں سے پیدا کر کے خدا نے خود اپنے بندوں کو شریک بنا لیا۔بلکہ یہ محض اپنی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے ہوتا ہے۔یا ایسی صفات الوہیت کے متعلق شک و شبہ سے بچانے کے لئے بعض بندوں میں رکھ دی جاتی ہیں مگر ان کو یونہی نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ان کی حد بندیاں مقرر ہیں کہ فلاں حد تک بندوں میں پائی جاتی ہیں اور فلاں طریق پر بندوں میں پائی جاتی ہیں۔اب یہ بات واضح ہو گئی۔جن امور کے متعلق انعکاسی طور پر انسان کچھ اخذ نہیں کر سکتا۔خواہ وہ باذن اللہ کہہ کر ہی کئے جاویں شرک ہیں۔اور جن امور کو بطور انعکاس اور محل کے پیدا کر سکتے ہیں۔وہ شرک نہیں مثلاً شنوائی کی طاقت ہے۔یہ انسان پیدا شدہ ہی لاتا ہے اور یہ خدا خود اسے دیتا ہے۔اسی طرح بینائی ہے وہ بھی پیدا شدہ ہی لاتا ہے۔گویائی ہے وہ بھی پیدا شدہ ہی لاتا ہے اور یہ خدا خود اسے دیتا ہے۔خدا خود بھی سنتا ہے اور انسان کو بھی سننے کی طاقت بخشتا ہے۔خدا خود بھی دیکھتا ہے اور انسان کو بھی بینائی عطا فرماتا ہے۔خدا خود بھی بولتا ہے اور انسان کو بھی قوت گویائی دیتا ہے لیکن یہ ان صفات میں شرکت شرک نہیں بلکہ انعام ہے۔جو انعکاسی رنگ میں بندوں پر کیا جاتا ہے تا ان کے یقین و ایمان میں ترقی ہو۔شرک کے معنی ہی مفہوم کو واضح کر رہے ہیں۔شرک کے معنی ہیں کہ کسی چیز میں دو مساوی ہوں۔اب غور کرو خدا بھی رزق دیتا ہے اور ہم بھی لیکن جس قسم کا رزق خدا تعالیٰ دیتا ہے۔اس