خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 22

22 کو ایک حد تک نیت اور ارادہ بھی طبعی قانون میں موثر اور تاثرات کا رنگ رکھتے ہیں۔مثلاً مئوثر طاقت کے مقابلہ پر تاثیر والی قوت کو کھڑا کر دیا جائے تو موثر قوت کوئی شک نہیں کہ کمزور ہو جائے گی۔مثلاً جو شخص گرمی میں یہ ارادہ کرلے کہ میں گرمی کو برداشت کر لونگا تو بیشک اس کو گرمی کم محسوس ہو گی۔مگر یہ نہیں کہ اس کو گرمی ہی نہ لگے۔اسی طرح جو شخص یہ ارادہ کرلے کہ میں برف کی ٹھنڈک اور سردی کو برداشت کرلوں گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو سردی کم محسوس ہوگی مگر یہ نہیں کہ اس کے اس ارداہ سے طبعی قانون اس پر اثر ہی نہ کرے۔یہ ممکن ہے کہ اگر اس کو برف کے پانی میں کھڑا کر دیا جائے تو وہ برداشت کی نیت اور ارادہ کرنے کی وجہ سے سردی کو کم محسوس کرے لیکن یہ نہیں ہو گا کہ اس کو برف کے پانی میں غوطہ دیا جائے تو اس کو گرمی ہونے لگ جائے اور یہ بھی نہیں ہو گا کہ کھاتے جائیں اور پیٹ نہ بھرے۔پیتے ہی جائیں اور سیر نہ ہوں۔بے شک ایک حد تک تو طبیعت طبیعی اسباب کا مقابلہ بھی کرتی ہے مگر وہ ایک محدود طاقت ہے غیر محدود نہیں۔اس طبعی قانون کے مقابلہ میں ایک شرعی قانون ہے کہ اس میں نیت اور ارادہ کو بہت بڑا دخل ہے۔گو بے نیت کے بھی اس قانون میں فائدہ پہنچ جاتا ہے جیسا کہ طبعی قانون میں ارادہ اور نیت بھی ایک حد تک فائدہ دیتا ہے۔جیسا کہ کوئی شخص اگر واقعہ میں نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے ادا نہیں کرتا وہ لوگوں کی دیکھا دیکھی نماز پڑھتا ہے تو گو اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوتی مگر وہ مسلمان کہلاتا ہے۔یا نماز روزہ سے وہ کوئی اور فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تا لوگ اس کو مسلمان خیال کر کے فائدہ پہنچائیں تو وہ فائدہ اس کو پہنچ جاتا ہے۔غرض جس طرح طبعی قانون میں ایک حد تک ارادہ اور نیت کی قوت فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح شرعی قانون میں ایک حد تک ارادہ اور نیت کی کمزوری بھی نقصان سے بچاتی ہے۔جس طرح طبعی قانون میں مخالف ارادہ بہت حد تک اثر نہیں کرتا یا کرتا ہے تو بہت کم اس طرح شرعی قانون میں جتنا ارادہ زیادہ ہو گا اور نیت جتنی اچھی ہو گی اتنا ہی اس کام کا نتیجہ اچھا اور نقصان اور تکلیف سے پاک ہو گا۔اور جتنا ارادہ اور اخلاص کمزور ہو گا اس کا نفع بھی بمقابلہ اس ارادہ کے کمزور ہو گا۔دونوں قانونوں میں کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے۔ایک طرف رسول اللہ اللہ کی عظمت اور شان کو دیکھو اور دوسری طرف ایک عام مسلمان کو دیکھو دونوں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے۔ایک کے تو کروڑوں کروڑ اور اربوں ارب آدمی غسلاً بعد نسل غلامی میں آئے اور ایک کو کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ایک کے لئے تو خدا تعالیٰ بے حد