خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 201

201 اسلامی حکام نے محتسب کے تقرر کو قرآن کریم کے اس حکم سے استنباط کیا ہے کہ گواہ عادل ہونے چاہئیں۔وہ کہتے ہیں اگر لوگوں کے حالات سے واقفیت نہ رکھی جائے تو کسی گواہ کی نسبت کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ واقعہ میں عادل اور ثقہ ہے۔اس لئے محتسبوں کے پاس ایسے لوگوں کی لسٹیں موجود رہا کرتی تھیں۔جو جھوٹ کے عادی ہوتے یا بازاروں میں لکھتے بیٹھے یونسی ہنسی محول اور تمسخر کیا کرتے اور جب عدالتوں میں کوئی گواہ پیش ہو تا اس وقت وہ اپنی کتاب سے کے متعلق نوٹ پیش کر دیتے۔اس سے اسلامی حکموں کی خوبی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں۔عباسی حکومت میں ہر جرنیل کے ساتھ ایسا شخص مقرر کیا جاتا تھا۔جو اس کے حالات لکھتا اور اطلاع دیتا رہے کہ وہ جرنیل کیا کچھ کرتا ہے۔حتی کہ حضرت ابو عبیدہ اور خالد بن ولید جیسے انسانوں کے ساتھ بھی خفیہ رپورٹر بھیجے جاتے تھے۔کہ وہ کس طرح کام کر رہے تو چشم پوشی کی اس تعلیم کے یہاں یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ کوئی خراب کام بھی کر رہا ہو تو رپورٹر چشم پوشی سے کام لیں اور خاموش رہیں۔کیونکہ مختلف موقعوں کے مناسب حال مختلف حکم ہوتے اس مخص ہیں۔پس ایسے افراد کا جن کے خلاف اخلاق اعمال کا دوسروں پر اثر نہیں پڑتا۔اور وہ اپنے اعمال کو چھپاتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے ایسے اعمال سے واقفیت نہیں رکھتے۔ان کے متعلق اسلام کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہی تعلیم ہے کہ ان کی پردہ پوسی کی جائے لیکن جس طرح آپ نے یہ تعلیم دی اسی طرح آپ کی ڈائری میں ان اشخاص کے متعلق جو علی الاعلان بد اخلاقی کے مرتکب ہوں۔ان کے برے افعال لوگوں پر ظاہر ہو چکے ہوں اور دوسروں پر اثر کرنے والے ہوں یہ بھی موجود ہے کہ میرا ارادہ ہے میں اخلاق پر ایک کتاب لکھوں اور پھر جو خلاف ورزی کرے۔ان کو جماعت سے خارج کر دوں اور پھر آپ کا عمل بھی موجود ہے کہ آپ نے اس قسم کے لوگوں کو قادیان سے نکالا۔ہاں ایک ایسا شخص جو کسی بد اخلاقی کا ارتکاب کر بیٹھا ہے اور پھر اس کو چھپاتا ہے۔اور لوگ بھی اس کے ایسے افعال سے واقف نہیں۔اس کی لغزش کا اگر کسی کو پتہ لگ جاتا ہے۔تو اس کا ایک بھائی کی حیثیت سے فرض ہے کہ چشم پوشی کرے۔اور علیحدگی میں اس کو نصیحت کرے۔اور اس کے لئے دعا کرے۔مثلاً کسی کو کسی بھائی کا کوئی جھوٹ معلوم ہو گیا ہے۔جس کا دوسروں کو علم نہیں اگر وہ اس کی اشاعت کرے تو اس کو مجرم قرار دیں گے۔پس ہر ایک تعلیم اپنے اپنے موقع کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ورنہ جو طریق معترض نے