خطبات محمود (جلد 9) — Page 200
200 جھوٹ کو چھپاتا ہے۔اور علی الاعلان اس بد اخلاقی کا مرتکب نہیں ہو تا تو ایسی حلات میں ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کی پردہ پوشی کرے۔علیحدگی میں اسے نصیحت کرے اور اس کے حق میں دعا کرے کہ خدا تعالیٰ اس کو اس عیب سے پاک ہونے کی توفیق دے۔لیکن جو شخص جھوٹ بولتا اور علی الاعلان بولتا ہے۔ایسا شخص دوسروں کے اندر اس بد اخلاقی کے متعلق یہ احساس پیدا کرتا ہے۔کہ جھوٹ کوئی بری بات نہیں۔اگر جھوٹ بول لیا جائے تو کوئی حرج نہیں واقع ہوتا۔خصوصاً بچوں کے اخلاق کو ایسا شخص زیادہ بگاڑتا ہے مثلاً جھوٹ بولتا ہے اور پھر ہنس پڑتا ہے۔اور اس طرح بیجوں کے دل سے اس فعل کی نفرت دور کر کے جھوٹ کی رغبت دلاتا ہے۔ایسے شخص کو جو شخص سرزنش نہیں کرتا۔وہ اس پر رحم نہیں کرتا۔بلکہ ہزاروں بچوں کو اس جرم کے ارتکاب کے لئے تیار کرتا ہے۔مثلاً ایک جج کے سامنے کسی گواہ نے جھوٹ بولا۔کوئی کہے چونکہ حضرت مسیح موعود کی اور اسلام کی یہ تعلیم ہے۔کہ پردہ پوشی کرنی چاہیے اس لئے حج کو اس کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہیے تو یہ درست نہیں ہو گا۔اگر جج اس کے اس عیب سے چشم پوشی کرتا ہے تو وہ حج خود مجرم ٹھہرے گا۔کیونکہ اس کا فرض ہے کہ وہ اس وقت مجرم کے جرم کو ظاہر کرے اور جس نے جھوٹ بولا ہے اس کو جھوٹا کہے اور اس کے جھوٹ کو ظاہر کرے۔اسلامی حکومت میں اس غرض کے لئے محتسب مقرر ہوتے تھے۔جن کا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار رکھا کرتے تھے جو دغا باز فریبی اور جھوٹے یا دوسرے جرموں کے عادی ہوتے ہیں۔اسلامی حکومت میں جو محتسب ہوتے تھے۔ان کی کتابوں میں ہر ایک شخص کی نسبت مفصل لکھا ہوتا تھا کہ اس شخص کا بیان سچا ہوتا ہے۔اور اس کا جھوٹا اور کہ فلاں دغا باز فریبی اور مکار ہے۔عدالت میں جب کوئی گواہ پیش ہوتا تو حج سب سے پہلے محتسب کو بلاتا اور اس شخص کے متعلق اس سے دریافت کرتا تھا۔اگر اس کے کاغذات میں اس کے متعلق یہ نوٹ ہوتا تھا کہ وہ جھوٹا ہے اور اس کا بیان سچا نہیں ہوتا تو اس سے گواہی نہ لی جاتی تھی۔آج کل عدالتوں میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ایک شخص کا مقدمہ ہوتا ہے اس کو گواہ کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ اپنے کسی دوست سے کہتا ہے کہ میرا مقدمہ ہے تم گواہی میرے حق میں دے دو وہ دے دیتا ہے۔مگر حکومت اسلامیہ میں ایسے لوگوں کی فہرستیں موجود ہوا کرتی تھیں اس لئے عدالتوں میں جھوٹے گواہ پیش نہیں ہو سکتے تھے۔جب بھی گواہ پیش ہو تا تھا۔پہلے محتسب کی اس کے متعلق شہادت طلب کی جاتی۔اگر وہ کہتا کہ یہ ثقہ گواہ ہے اور اس پر کوئی الزام اور اتمام نہیں ہے۔تو اس کی شہادت قبول کی جاتی ورنہ رد کر دی جاتی۔