خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 183

183 انکار کر دیا۔اس پر کہنے لگے جو کچھ تقدیر میں ہوتا ہے۔وہی ہوتا ہے کھانے پینے سے کچھ نہیں ہوتا۔میں نے کہا یہ بات آپ نے پہلے کیوں نہ بتائی جب ہم لاہور سے روانہ ہونے لگے تھے۔آپ اگر اس وقت بتاتے تو ریل کے ٹکٹ کا خرچ خواہ مخواہ برداشت نہ کرنا پڑتا۔اگر تقدیر میں ہوتا تو ہم خود بخود اپنے اپنے مقام پر پہنچ جاتے۔کہنے لگے تدبیر ہوتی ہے۔میں نے کہا نزلہ کی حالت میں ترش چیزیں نہ کھانا بھی تدبیر ہی ہے۔اس پر کہنے لگے تقدیر کے ذکر سے میری مراد بھی یہی تھی۔تو مسلمانوں کے لیڈروں کی مراد اسی طرح خلافت سے مجلس شوری تھی۔جس طرح پیر جماعت علی صاحب کی تقدیر سے مراد تدبیر تھی۔اب مسلمان لیڈر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر حاجی حج کئے بغیر واپس آگئے تو پھر حکومت کو پتہ لگ جائے گا کہ کیا نتیجہ ہوتا ہے۔حالانکہ اس سے بڑھ کر بے ہودگی کیا ہو سکتی ہے کہ انگریزوں سے کہا جائے کہ وہ اپنی قوت اور طاقت کے ذریعہ اس معاملہ میں دخل دیں۔اس کا مطلب تو اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کاٹنا ہے۔کیونکہ اگر انگریز آج اس معاملہ میں دخل دیں گے۔تو پھر ہمیشہ کے ئے ان کا حق ہو جائے گا کہ دخل دیتے رہیں۔ہماری رائے تو اس بارے میں یہ ہے ہم انگریزوں سے یہ کہہ دیں کہ تم پرے بیٹھے رہو۔تم اس معاملہ میں دخل نہ دو۔یہ ہمارا مذہبی معاملہ اور ہمارے مقامات مقدسہ سے تعلق رکھنے والا معالمہ ہے۔تمہارا اس معاملہ میں کچھ بھی دخل ہم گوارا نہیں کر سکتے۔یہی بات سب مسلمانوں کو کہنی چاہیے تھی۔مگر خدا تعالیٰ مجرموں کو پکڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض منذر الہامات جب پورے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ان پر احمدیوں کو خوشی منانی چاہیے۔مثلاً کابل میں جب ہمارے آدمی مارے گئے۔اور لکھا گیا کہ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی تھی۔تو انہوں نے کہا احمدیوں کو اس موقع پر خوش ہونا چاہیے کہ ان کے نبی کی پیش گوئی پوری ہوئی۔نہ کہ اظہار رنج و غم کرنا چاہیے ہم کہتے ہیں آج بھی انہیں خوشی کرنی چاہیے کہ امیر علی کی وجہ سے حج میں بندش پیدا ہو رہی ہے۔اور حج کا رکنا رسول کریم ﷺ کی پیش گوئی ہے۔اب کیوں چیختے چلاتے ہیں۔اور کیوں یہ پیش گوئی انہیں بھول گئی ہے۔دراصل یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہے ہر وہ حملہ جو یہ لوگ ہم پر کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان پر عائد کر دیتا ہے۔اب اگر حج نہ ہوا اور حاجی واپس آگئے تو ہم ہی نہیں جانتے یہ لوگ خود بھی جانتے ہیں کہ ان سے پھر بھی کچھ نہ ہو گا۔اور یہ اپنی دھمکیوں کو کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھیں گے یعنی پھر اس وقت کہیں گے اگر یہ ہوا تو ہم یہ کر دیں گے۔مجھے ان کی اس قسم کی دھمکیوں کی مثال ایک واقعہ میں نظر آتی ہے۔جو میں نے ۶-۷ سال