خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 175

175 در کنار ہندو چوڑھے کو اپنے ساتھ بھی نہیں لگنے دیتے۔جب اس نے چوڑھے کو آتے دیکھا تو دل میں خیال کیا یہ اب مجھے جتلائے گا اس لئے اسے آواز دے کر کہنے لگا اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا اور حقہ پی کر خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا۔تو ہر ایک قسم کی بد عادت سے بچے رہنا چاہیے۔تا انسان غلامی سے آزاد رہے۔علاوہ اس کے کہ حقہ نوشی تمام بد اخلاقیوں کا منبع ہے۔اور اس سے انسان پست ہمت اور دوسروں کا غلام بن جاتا ہے۔اس کی عادت سے بہت سے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔حقہ اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔دمہ ، رعشہ اور بیسیوں بیماریاں اس سے پیدا ہوتی ہیں۔پس دوسری نصیحت میری یہ ہے کہ تمباکو پینے سے بچنا چاہیے۔کیونکہ یہ علاوہ بہت سی بد اخلاقیوں کے صحت کی خرابی کا بھی موجب ہے۔احمد یہ چوک اور ہمارے بازاروں میں حقہ نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے کارکنوں کو بہت سختی کے ساتھ اس امر کی نگرانی کرنی چاہیے۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے بازاروں میں دوکانوں پر حقہ پیا جاتا ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص کی نسبت آپ کو اطلاع دی گئی کہ وہ ہر وقت مہمان خانہ میں بیٹھا حقہ پیتا رہتا ہے۔آپ نے اس کو فوراً نکال دیا۔کہاں یہ بات کہ حقہ پینے والے کو حضرت صاحب مہمان خانے سے نکال دیں۔اور کہاں یہ کہ اب ہمارے چوک اور بازاروں میں بھی حقہ پیا جاتا ہے۔اگر کارکنوں سے غفلت ہوئی تھی تو جماعت کے دوسرے دوستوں کا فرض تھا کہ وہ دوکانداروں سے جن کی دوکانوں پر حقہ پیا جاتا ہے۔یا سیگریٹ فروخت کئے جاتے ہیں۔سودا لینا بند کر دیتے۔اول تو کارکنوں کے اندر اس نقص کو دور کرنے کا احساس پیدا ہونا چاہیے تھا۔اگر ان میں نہیں ہوا تھا تو دوسرے لوگوں کا فرض تھا کہ وہ ان کو یاد دلاتے۔عام لوگوں کو تو حقہ پینے سے جبرا نہیں روک سکتے۔مگر چونکہ یہ صحت کو خراب کرتا ہے۔اس لئے ہم اپنے طالب علموں پر جبر بھی کر سکتے ہیں۔اس وقت تک بہت سے لوگوں نے میری نصیحت پر حقہ چھوڑ دیا ہے۔اور ہر طبقہ کے لوگوں نے چھوڑا ہے۔چھوٹوں نے بھی اور بڑوں نے بھی امراء نے بھی اور غرباء نے بھی۔امید ہے بقیہ لوگ بھی اس بد عادت کو چھوڑ دیں گے۔۔دجال کی ایک یہ علامت بتائی گئی ہے کہ اس کے آگے بھی دھواں ہو گا اور پیچھے بھی ۳ سیگریٹ پینے والا منہ سے دھواں نکالتا ہے۔پھر وہ دھواں پیچھے کو چلا جاتا ہے۔یورپین لوگ جدھر جائیں گے۔سیگریٹ پیتے جائیں گے۔یہ بھی دجالی عادت ہے اور مسیح موعود وجالی عادتوں کو مٹانے آئے تھے۔پس تم بھی دجالی عادات کو چھوڑ دو۔یہ دونوں امور جو میں نے بیان کئے ہیں نہ صرف یہ