خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 11

11 3 جذبات اور عقل دونوں سے کام لینا چاہیے (فرموده ۱۶ جنوری ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں دو قسم کی چیزیں ہمارے دیکھنے میں آتی ہیں جو کہ انسان کے اعمال اور اس کے کاموں میں بہت زیادہ تصرف رکھتی ہیں۔جو بھی دنیا میں انسان کام کرتا ہے۔صرف انہیں دو چیزوں کے تصرف کے ماتحت کرتا ہے۔ایک تو انسان کی عقل ہے جس کے ماتحت وہ کام کرتا ہے اور دوسری چیز اس کے جذبات ہیں جن کے ماتحت وہ دنیا میں کاروبار کرتا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی عقل اور اس کے جذبات دونوں مل کر کام کرتے ہیں اور بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دونوں مل کر کام نہیں کرتے۔جس وقت تو انسان کی عقل اور اس کے جذبات مل کر کام کرتے ہیں تب تو انسان نتیجہ میں خوش ہوتا اور راحت پاتا ہے اور اس کو کوئی رنج اور دکھ نہیں ہوتا لیکن جس وقت انسان کے جذبات اس کو اور طرف لے جاتے ہیں اور اس کی عقل اس کو اور طرف کھینچتی ہے اس وقت انسان دکھ اٹھاتا اور تکلیف پاتا ہے۔ایسے وقت میں بھی پھر دو کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔یا تو انسان کے جذبات غالب آجاتے ہیں اور عقل دب جاتی ہے اور یا عقل ایسی غالب آجاتی ہے کہ جذبات بالکل دب جاتے ہیں اور یہ دونوں حالتیں تکلیف دہ ہیں۔ایک تو وقتی اثر کے لحاظ سے اور ایک دائمی اثرات کے لحاظ سے۔جو کام کہ محض جذبات کے ماتحت کئے جاتے ہیں اور عقل بالکل مغلوب ہو کر دب جاتی ہے ان کا نتیجہ تو بعد میں جا کر تکلیف دہ نکلتا ہے۔اور جو کام کہ ایسی کیفیت کے ماتحت کئے جاتے ہیں جس میں عقل غالب آجاتی ہے اور جذبات بالکل دب جاتے ہیں تو یہ کیفیت موجودہ حالات کے ماتحت بہت مضر ہوتی ہے۔کیونکہ ایسا شخص لوگوں کی نظروں میں سخت گھناؤنی صورت والا نظر آنے لگتا ہے۔حالانکہ وہ عقل