خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 108

108 خدا تعالی پر پورا توکل نہیں رکھتے اور کامل توجہ سے دعا نہیں کرتے ان کی دعا ہر گز مفید نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ دعائیں کرتے تو ہیں۔لیکن ان کے کرنے کا طریقہ نہیں جانتے۔دعا بے شک ایک ایسے ہتھیار کی طرح ہے جس کے ایک دار کے بعد پھر اور دار کی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن وہ اس کے لئے مفید نہیں ہو سکتی جو اس کو کرنا نہیں جانتا۔بسا اوقات وہ لمبی لمبی دعائیں کرے گا لیکن ان دعاؤں کا کچھ اثر نہ ہو گا۔اور بسا اوقات ایسا بھی ہو گا کہ ایک نادان ایسے طریقہ پر دعائیں کرتا ہے کہ بجائے نفع کے نقصان اٹھاتا ہے۔اور اس کی دعائیں بجائے اس کو فائدہ پہنچانے کے الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔پس دعائیں جہاں کارگر ہیں وہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غلط طریقہ پر کئے جانے سے وہ نقصان پہنچا دیں۔اس لئے دعا کرنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جانتا ہو کہ دعا کس طرح کی جاتی ہے اور اس کے کرنے والے کے لئے کیا کیا ذمہ داریاں ہیں۔اور کتنے وثوق اور یقین کے ساتھ دعا کرنی چاہیے اگر وہ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر دعائیں کرے گا تو اس کی دعائیں اس کو فائدہ دیں گی اور اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھے گا تو وہ بجائے اس کو فائدہ دینے کے مضر ہوں گی۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس بات سے ڈر کر کہ شائد میری دعائیں مجھے نقصان پہنچائیں ان کو چھوڑ دیا جائے۔دعا کرنا ضروری اور فرض ہے۔کیونکہ بغیر دعا کے تکمیل ایمان نہیں ہو سکتی اور بغیر تکمیل ایمان کے انسان ہرگز کوئی فلاح نہیں پا سکتا۔چونکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کو کامل کرے۔اس لئے اگر وہ دعائیں نہیں کرتا تو اپنی پیدائش کی غرض کو پورا نہیں کرتا۔پس میرے یہ کہنے سے کہ دعائیں اگر صحیح طریقہ پر نہ کی جاویں تو بجائے نفع کے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اس سے ڈر جاؤ اور دعاؤں کو بالکل چھوڑ دو۔بلکہ اس سے میرا یہ مطلب ہے کہ اس کے متعلق صحیح طریقہ سیکھا جائے۔کیونکہ اگر صحیح اور اصل طریقہ جس پر عمل کر کے ہماری دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہیں استعمال میں نہ لایا جائے تو ہماری دعاؤں کا قطعا کوئی فائدہ نہیں۔ہر کام کرنے کے واسطے یہ لازم ہے کہ اس کے کرنے کا اصل طریق سیکھا جائے۔کیونکہ اگر ہم صحیح طریقہ پر اس کام کو نہیں کریں گے تو وہ کام بجائے نفع کے ہم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔لیکن اس کا مطلب نہیں کہ اس کام کو اس اندیشہ سے چھوڑ ہی دیا جائے کہ شائد نقصان پہنچا دے۔پس جب کہ دعا کے بغیر انسان نجات اور فلاح ہی نہیں حاصل کر سکتا تو کسی شخص کو اس واسطے اور