خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 73

73 محسوس کر رہے تھے۔لیکن عورت کے غیرت دلانے پر ان کے مردہ احساسات فورآ زندہ ہو گئے۔میں نے دیکھا جب انہوں نے اس بڑھیا کی آواز سنی تو فور آ جوش میں بھر گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنا کوئی فرض اور ذمہ داری بھلائے بیٹھے تھے اور اس بات کے محتاج تھے کہ کوئی ان کے سامنے ان کی ذمہ داری پیش کرے۔جب عورت نے انہیں غیرت دلائی تو وہ فرض انہیں یاد آگیا اور اس میں کیا شک ہے کہ ان کے عقیدہ کے لحاظ سے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہمیں شکار سے روکتے۔کیونکہ ان کے نزدیک یہ جیو ہتیا ہے۔مگر اس کا پہلے ان کے دل پر کوئی اثر نہ تھا۔لیکن جب بڑھیا نے ان کو اس فاختہ کے تڑپنے کا نظارہ پیش کر کے ان کی ذمہ داری یاد دلائی تو پھر ان کے جوش کی کوئی حد نہ رہی۔پس اکثر دفعہ خواہ کتنا ہی کوئی اہم واقعہ ہو براہ راست اس کا بعض طبیعتوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔لیکن بالواسطہ اس کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کابل کے واقعات کے متعلق ہمارا پروٹسٹ اور ہماری طرف سے صدائے احتجاج بلند کرنا۔براہ راست گورنمنٹ کابل پر اسکا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان واقعات کو دہرانا اور ان کا بار بار تکرار کرنا علاوہ دیگر قوموں کو ان کے انسانی فرض یاد دلانے کے ، خصوصیت کے ساتھ احمدیوں کو ان کی ذمہ داری اور ان کا فرض یاد دلاتا ہے۔اور اس سے ان کے اندر زندگی کی روح پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ بہت سے دلوں میں جب احساسات خود بخود کسی واقعہ سے پیدا نہیں ہوتے تو دوسرے لوگوں سے جن کے قلوب زندہ ہوتے ہیں ان واقعات کو سن کر ان کے اندر بھی زندگی کی روح پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر جس طرح زندہ دل لوگوں کے اندر اس واقعہ کا خاص جوش اور احساس ہوتا ہے اسی دوسروں کے اندر بھی خاص جوش اور احساس پیدا ہو جاتا ہے۔پس گو ہماری اس صدائے احتجاج کا براہ راست حکومت کابل پر کوئی اثر نہ ہو لیکن بالواسطہ یقیناً اس کا بہت بڑا اثر ہو سکتا ہے۔ہم لوگ جن کے ساتھ یہ واقعات گزرے ہیں۔اگر ہم بھی خاموش بیٹھے رہتے تو ہمارے گرد و پیش رہنے والی قوموں کے اندر بھی ان واقعات کا احساس پیدا نہ ہوتا۔کیونکہ دوسروں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ جس قوم کے افراد کے ساتھ یہ واقعات گزرے ہیں وہ جب حکومت کابل کے ان افعال پر کسی قسم کا اظہار نفرت نہیں کرتی تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ کچھ کہیں۔ان سے ہماری صدائے احتجاج بلند کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے اندر دوسروں کی آواز سن کر جوش اور احساس پیدا ہوتا ہے ان کے مردہ دلوں کے اندر بھی زندگی پیدا ہو طرح دو b q