خطبات محمود (جلد 9) — Page 326
326 پس بغداد اگر اس وجہ سے بغداد شریف کہلا سکتا ہے۔تو دمشق بھی دمشق شریف کہلا سکتا ہے۔کیونکہ بغداد کی طرح یہ بھی عالم اسلامی کا دارالخلافہ رہا ہے بلکہ بغداد سے بڑھ کر رہا ہے۔کیونکہ اس کے ماتحت سارا عالم اسلامی رہ چکا ہے۔تمام مفتوحہ علاقے اس کے ماتحت تھے۔خواہ وہ علاقے سپین کے ہوں خواہ افریقہ کے۔خواہ وہ ایران کے علاقے ہوں خواہ روس کے۔خواہ وہ چینی علاقے ہوں۔خواه افغانستان کے۔خواہ وہ بلوچستان کے علاقے ہوں۔خواہ ہندوستان کے۔وہ سارے کے سارے دمشق کے ماتحت تھے اور دمشق کو یہ ایک ایسی خصوصیت حاصل ہے کہ جو کسی اور کو حاصل نہیں۔آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں میں بھی دمشق کا ذکر آیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں جو پیشگوئیاں آئی ہیں۔ان میں خصوصیت سے اس شہر کا نام لیا گیا ہے۔یہ ذکر بلا وجہ نہیں تھا بلکہ اس کی ایک وجہ تھی اور وہ یہی کہ اس زمانہ میں دمشق میں ایک فساد واقع ہو گا جس سے خطرناک تباہی پیدا ہوگی اور اس تباہی اور بربادی کے بعد پھر ایک ترقی ہوگی جو احمدیت کے ذریعے ہوگی اور جس طرح پہلے مسیح کے زمانہ میں تنزل کے بعد اس نے ترقی پائی۔اسی طرح دوسرے مسیح کے زمانہ میں بھی یہ ترقی پائے گا اور بربادی کے بعد اسے آبادی حاصل ہوگی اور چونکہ وہ آبادی اور ترقی دوسرے مسیح کے ذریعے ہوئی تھی۔اس لئے اس کا ذکر کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں سے ایک الہام یہ بھی ہے۔بدعون لک ابدال الشام ۲؎ کہ شام کے ابدال تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں۔یہ الہام بھی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مسیح موعود کے ذریعے ملک شام کی تباہی کے بعد ایک ایسی ترقی اور آبادی ہوگی جو پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی اور جسے دیکھ کر ہر کس و ناکس کے منہ سے بالعموم اور خواص و ابدال کے منہ سے بالخصوص اس کے لئے اس کے کاموں کے لئے اس کے احسانوں کے لئے دعائیں نکلیں گی۔پس دمشق نے جس طرح موسوی خلفاء کے زمانہ میں ترقی پائی۔جس طرح عیسوی خلفاء کے زمانہ میں ترقی حاصل کی اور تاریخی کاموں میں حصہ لیا ہے۔اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی وہ ترقی پائے گا۔اور تاریخی کاموں میں بھی حصہ لینے والا ہے۔اس وقت اس کا تاریخی کاموں میں حصہ لینا اور ترقی پانا یہی ہے کہ اس پر ایک خطرناک تباہی آئے اور یہ تنزل پا جائے اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پھر ترقی پائے اور عروج پر پہنچے۔آج سے پہلے شائد یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی لیکن اب جب کہ اس پر تباہی آئی اور یہ گر کر تنزل میں پڑ گیا تو یہ بات بخوبی معلوم ہو سکتی ہے کہ یہ اب ترقی کرے گا۔چنانچہ اس کے آثار