خطبات محمود (جلد 9) — Page 280
1 280 یہی وہ مقام ہے جس پر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سرخ چھینٹوں والی رؤیا دکھائی۔اس پر نادان مولویوں نے اعتراض کئے ہیں اور اپنی لاعلمی سے کہا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کو صحیح تسلیم کر لیا جائے مگر وہ نہیں جانتے اس مقام پر جو شخص پہنچ جاتا ہے اور خدا کی محبت میں اس حد تک محو ہو جاتا ہے کہ نہ صرف یہ یقین کرتا ہے کہ خدا ہے۔نہ صرف اسی پر اکتفا کرتا ہے کہ اسر اس یقین کے ماتحت اس بات کو مانے کہ خدا ہی سب کچھ کرتا ہے بلکہ وہ ذریعوں سے دیکھنے کے بعد آگے قدم بڑھا کر بغیر ذریعوں کے اسے دیکھتا ہے اور ایسا گداز ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کئی طور پر اپنے آپ کو اس پر ظاہر کرتا ہے۔ہر رنگ چند کیمیاوی چیزوں سے بنتا ہے اور وہ چیزیں آگے کئی چیزوں سے بنتی ہیں۔گیسیں ہیں۔روشنیاں ہیں اور کئی چیزیں ہوتی ہیں۔جن سے رنگ بنتا ہے۔روشنی کی کرنوں کا اس سے تعلق ہوتا ہے اور سورج کا بھی۔ان کے علاوہ ملا کہ ہیں۔پھر خدا کا حکم ہوتا ہے۔غرض بیسیوں، سینکڑوں چیزیں ہوتی ہیں۔جن سے رنگ تیار ہوتا ہے اور سینکڑوں ہی اجزاء ہوتے ہیں۔جن سے یہ ترکیب پاتا ہے۔پھر سینکڑوں ہی وسائل ہوتے ہیں جن سے یہ اس طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے مسبب الاسباب ہونے کا مشاہدہ کرانے کے لئے اس رنگ میں ظاہر کیا کہ عالم رویا میں قلم چھڑکا۔جس سے سرخی مادی چیز کی طرح کپڑوں پر آپڑی۔اب کہاں گئیں وہ گیسیں اور شعائیں اور کہاں گئے وہ ہزاروں سامان جن کا ہم کو علم بھی نہیں کہ وہ کتنے ہیں۔کیسے ہیں اور کیونکر ہیں۔خدا نے بغیران سامانوں کے یہ رنگ پیدا کر دیا اور بغیر ذرائع کے بالمشافہ اس کو چھڑکا۔جس کا کپڑوں پر بھی داغ رہ گیا۔یہ ہے وہ توحید جو کامل ہے اور اس کے حصول کے لئے کہا گیا ہے۔اس کے معنی یہی ہیں کہ انسان ایسا گداز ہو کہ خدا تک پہنچنے کے لئے تمام سامان بیچ سے اڑ جائیں اور وہ بغیر کسی ذریعہ کے خدا کو دیکھ لے اور اس کی صفات پورے طور پر اس پر جلوہ گر ہوں۔اسی لئے توحید پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔کیونکہ اگر اس کا یہ فائدہ نہ ہوتا تو اس کا مان لینا ایسا ہی تھا۔جیسا ہمالیہ پہاڑ کا مان لینا یا زمین کا گول ماننا۔کیونکہ جن لوگوں نے ہمالیہ پہاڑ کو نہیں دیکھا اور جنہیں پتہ نہیں کہ زمین گول ہے وہ بھی یہ مانتے ہیں۔پس توحید کا مسئلہ انسان کو پاک کر کے خدا کا قرب دلانے کے لئے ہے جو شخص توحید کا قائل نہیں اور کامل توحید پر عامل نہیں۔وہ قرب الہی نہیں حاصل کر سکتا۔کیونکہ جو خدا سے دور ہو وہ اس مقام پر پہنچ نہیں سکتا جو انسان کی پیدائش کا اصل مدعا ہے۔اسی لئے توحید پر ایمان لانے سے ایک