خطبات محمود (جلد 9) — Page 279
279 پیدا کر لے کہ خدا تعالیٰ نے ہی یہ قانون بنائے ہیں۔جن کے ماتحت سب کچھ ہو رہا ہے۔تو سمجھ سکتا ہے کہ سب کچھ اللہ تعالٰی کے حکم اور منشاء سے ہو رہا ہے۔غرض یہ تعلیم کہ روٹی کھانے میں خدا نے پیٹ بھرنے کی طاقت رکھی ہے یا پانی پینے میں ایسی صفت رکھ دی گئی ہے کہ وہ پیاس بجھا سکے۔یا علاج میں یہ طاقت خدا نے پیدا کر دی ہے کہ صحت ہو جائے۔ورنہ ان میں کوئی طاقت نہیں ہے اور نہ مجھے ان پر کسی قسم کا بھروسہ ہے۔یہ دوسرے درجہ کی توحید ہے اور اس یقین کے ساتھ ایک شخص صرف صوفیاء والی توحید پر پہنچتا ہے۔یہ دونوں توحیدیں عقائد پر اثر کرتی تھیں۔انسان ذات کے لحاظ سے صفات کے لحاظ سے منصب کے لحاظ سے اظہار قدرت کے لحاظ سے خیال کرتا تھا کہ خدا ایک ہے اور ان سب چیزوں میں جو طاقتیں دیکھی جاتی ہیں۔ان کو ان میں رکھنے والا خدا ہی ہے۔لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔یہی توحید کافی نہیں بلکہ جب انسان ان دونوں درجوں کو طے کر لے تو پھر یہاں تک آ کے رک نہ جائے بلکہ اور بھی ترقی کرے اور کامل مشاہدات کے ذریعہ معلوم کرے کہ واقعی ایک خدا ہے جس کا جلوہ ہر چیز میں نظر آتا ہے۔صوفیاء نے تو توحید کو آئینہ کی طرح دکھایا گو آئینہ میں خدا کی شکل دکھا دی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے بھی آگے بڑھایا۔اور فرمایا کہ تو خدا کو خود دیکھ۔ذرائع میں نہ دیکھ۔وسائط سے نہ دیکھ۔بلکہ تو اپنے آپ کو گداز کر کے اس کو دیکھ۔تو اس کے جلال کو اس طرح دیکھ کہ جس طرح کوئی چیز بغیر کسی پردہ یا روک کے سامنے کھڑی ہو اور تیری یہ حالت ہو کہ دنیا کی ہر ایک چیز بلکہ اپنے وجود کو بھی کالعدم سمجھ لے۔یہ اصل توحید ہے۔جس سے روحانی زندگی حاصل ہوتی ہے اور جس کے لئے توحید کا مسئلہ ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں دوائی میں یہ اثر ہے کہ وہ مرض کو دور کرتی اور مریض کو شفا دیتی ہے تو اس سے وہ غرض توحید کی پوری نہیں ہوتی۔جو یہ یقین کرنے سے ہوتی ہے کہ دوائی میں یہ اثر اپنے آپ نہیں آگیا بلکہ کسی ایسی ہستی نے رکھا ہے جو اگر چاہے تو اب بھی اس سے واپس لے سکتی ہے۔تو اس طرح صرف خیال کر لینا کہ خدا ہے۔اور ایک ہے کوئی اس کی ذات صفات اور قدرت میں شریک نہیں۔یہ کافی نہیں یہ خیال تو عیسائیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔یہودیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ہندوؤں میں بھی پایا جاتا ہے۔پس یہ ایمان کہ خدا ہے یہ کافی نہیں۔یہ ایمان بالغیب ہے جو کامل نہیں ہوتا۔ایمان بالمشاہدہ ہونا چاہیے اور ایمان بالمشاہدہ صرف اسی صورت میں پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان اس حد تک گداز ہو کہ آخر خدا اس کے آئینہ قلب پر اپنا پر تو ڈالے اور صاف طور پر اسے نظر آجائے۔