خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 278

278 مرض دور کرتا ہے۔تو یہ سب خدا ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔نہ کہ ان میں اپنے آپ کوئی ایسی طاقت ہے جو فائدہ پہنچا سکے۔یہ سب باتیں خدا نے ہی ان میں رکھی ہیں اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان چیزوں سے وہ ان طاقتوں کو لے بھی لے۔پس جس طرح تو خدا کو سمجھتا ہے کہ ہے اور جس طرح تو یہ یقین کرتا ہے کہ وہ ایک ہی ہے۔اسی طرح یہ بھی ایمان لا کہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے اور پھر اس ایمان کو اس طرح ظاہر کر کہ اپنے ہر قول و فعل سے اس کا ثبوت دے۔صوفیاء نے یہ توحید پیش کی ہے۔مولویوں کی نظر یہاں تک نہیں پہنچی۔وہ ان سے بہت نیچے رہے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص شفاف پالش شدہ میز میں اپنی شکل دیکھ لے۔ان لوگوں نے خدا کی شکل ایک پالش شدہ میز میں دیکھی۔لیکن صوفیاء نے شیشے میں دیکھی۔جو زیادہ صاف طور پر نظر آئی۔چونکہ شیشے میں جو شکل نظر آتی ہے وہ کسی پالش شدہ چیز پر سے نظر آنے والی شکل سے زیادہ واضح ہوتی ہے اس لئے صوفیاء نے جو کچھ دیکھا وہ مولویوں سے زیادہ واضح طور پر دیکھا اور یہ صاف بات ہے کہ مولویوں نے جو شکل دیکھی وہ شیشے میں نظر آنے والی صورت سے کیسی بھونڈی ہو گی۔صوفیاء نے تو خدا کی شکل کو اس طرح دکھایا جس طرح شیشہ میں شکل دیکھی جائے۔لیکن مولویوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ دکھایا۔جیسے پالش شدہ چیز میں دھندلی سی شکل نظر آجائے۔غرض صوفیاء مولویوں سے آگے بڑھ گئے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھایا اور توحید کو پورے طور پر سمجھایا۔اور خدا تعالیٰ کو اس کے اصل رنگ میں دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام " آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں ا۔۔توحید کے تین درجے ہیں۔سب سے ادنی درجہ تو یہ ہے کہ انسان یہ خیال کرے کہ خدا اپنی ذات میں اپنی صفات میں۔اپنے منصب میں اور اپنے اظہار قدرت میں لا شریک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔اور کوئی اس قابل نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے۔یہ ادنی درجہ کی توحید ہے۔دوسرا درجہ توحید کا اس سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کی تفصیل میں خیال کرے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں۔یہ میں اپنے آپ نہیں کرتا بلکہ خدا نے کہا ہے کہ ایسا کر۔اس لئے کرتا ہوں اور جن چیزوں سے میں فائدہ اٹھاتا ہوں۔ان میں فائدہ پہنچانے کی قوت خدا نے ہی رکھی ہے اور اسی کے حکم سے وہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔گویا وہ یہ خیال کر لے کہ میں اس بات سے اس لئے فائدہ اٹھاتا اور ان سے کام لیتا ہوں کہ خدا نے وہ پیدا کئے ہیں۔نہ اس لئے کہ میں انہیں فائدہ پہنچانے والا سمجھتا ہوں۔جب یہ یقین اور یہ ایمان