خطبات محمود (جلد 9) — Page 277
277 کیونکہ سب کام خدا ہی کراتا ہے لیکن نادان نہیں جانتے۔اگر خدا ہی یہ سب کام کراتا ہے۔اگر خدا ہی کہتا ہے کہ تو فلاں کے ہاں چوری کر۔اگر خدا ہی کہتا ہے کہ فلاں جگہ ڈاکہ ڈال۔اگر خدا ہی کہتا ہے تو فلاں شخص کو قتل کر دے۔غرض اگر خدا ہی تمام اس قسم کے کام کرنے کے لئے بندوں سے کہتا ہے۔تو پھر اس قسم کے کام کرنے پر سزا کیوں دیتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک فعل خود کرائے اور پھر اس کے کرنے پر سزا بھی دے۔ان کے مقابلہ میں قدریوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ خدا انسان سے کوئی فعل نہیں کراتا۔بلکہ اس انسان کو ہر کام کرنے کا اختیار دے دیا ہے اور انسان جو کچھ کرتا ہے اس میں وہ مختار ہے اس پر کسی کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے اختیار کے مطلب کو ہی غلط سمجھا۔وہ کہتے ہیں انسان کو خدا نے اختیار دیا ہوا ہے۔جو چاہے کرے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ اگر اختیار ہے تو پھر سزا کیسی۔اسی طرح تقدیر کا مسئلہ ہے۔اسے بھی مولویوں نے نہایت برے طریق پر بیان کیا ہے۔میں اس وقت اس میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ یہ علیحدہ مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بھی ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اس میں کوئی مشکل نہیں رہے گی۔صوفیاء نے توحید کے متعلق جو تعلیم دی۔گو وہ مولویوں کے خیال سے اعلیٰ تھی۔اور اس کا علم انہوں نے خدا تعالیٰ سے حاصل کیا تھا لیکن پھر بھی وہ اس تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توحید کے متعلق بیان فرمائی ہے۔مولویوں نے تو کہا تو خدا کو ایک سمجھ۔اس کی ذات میں اسے ایک سمجھ۔اس کی صفات میں اسے ایک سمجھ۔اس کے منصب میں اس کو ایک سمجھ۔اس کے اظہار قدرت میں اسے ایک سمجھ۔یہی توحید ہے۔لیکن صوفی یہاں تک نہیں ہے بلکہ انہوں نے اس سے آگے قدم بڑھایا۔اور یہ کہا کہ تو خدا کو ایک بھی سمجھ اور اپنے عمل سے بھی ایسا ہی ثابت کر۔یہ نہ کر کہ تیری زبان تو کہے کہ خدا ایک ہے اور تیرا دل خدا کے سوا اوروں کو حاجت برار سمجھے۔یعنی اسباب پر بھروسہ کرے۔جب تو روٹی کھاتا ہے تو یہ خیال نہ کر کہ روٹی سے پیٹ بھرے گا۔بلکہ یہ یقین کر کہ خدا نے ہی روٹی کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ بھوک مٹا سکے۔اسی طرح جب تو پانی پیتا ہے تو یہ یقین رکھ کہ خدا ہی سیری دے گا تو ہوگی۔ورنہ پانی کی یہ طاقت نہیں کہ پیاس بجھا سکے۔اگر تو بیمار ہو تو بیشک علاج کر۔لیکن وہ یہ یقین ہرگز نہ رکھ کہ اس علاج سے مجھے فائدہ ہو گا بلکہ یہ سمجھ کہ خدا تعالٰی نے اس میں وہ صفت رکھ دی ہے کہ جس سے شفا ہوتی ہے اگر وہ ان صفتوں کو ان اشیاء میں پیدا نہ کرے تو یہ اپنے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔پس اس بات پر یقین رکھ کہ روٹی اگر بھوک مٹاتی ہے۔پانی اگر پیاس بجھاتا ہے۔علاج اگر