خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 276

276 میں کس کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔جو کچھ بھی مولویوں نے لکھا اور جتنی بھی کتابیں علماء کی ہیں۔ساری کی ساری جب توحید بیان کرتی ہیں۔تو انہی باتوں میں اسے محدود کرتی ہیں۔انہوں نے اس کی حد باندھ دی ہے۔وہ ساری کی ساری یہی کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں خدا تعالیٰ کی صفات میں۔خدا کے مرتبہ میں اور خدا تعالیٰ کے اظہار قدرت میں کسی کو شریک مت قرار دو۔مولویوں کی نظر اس سے اوپر نہیں گئی اور ان کا سارا زور اسی پر ختم ہو گیا ہے۔صوفیاء اس سے اوپر گئے ہیں۔انہوں نے مولویوں سے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی توحید نہیں ہے کہ خدا کی ذات میں خدا کی صفات میں۔خدا کے مرتبہ میں اور خدا کے اظہار قدرت میں کسی کو شریک نہ قرار دیا جائے۔اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہے اور ایک ہی ہے تو یہ کوئی توحید نہیں۔ایسا ہی اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خالق اور محی کی صفات صرف خدا ہی کے لئے ہیں۔تو اتنا کہہ دینا توحید کی حقیقت کو پورا نہیں کر دیتا۔بلکہ توحید یہ ہے کہ اسباب پر کسی قسم کا بھروسہ نہ کیا جائے۔دیکھو خدا کے سوا کوئی نہیں جو اولاد عطا کرے۔اس لئے اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ فلاں شخص نے بیٹا دیا۔خواہ وہ ساتھ یہ بھی کہے کہ خدا سے حاصل کر کے دیا ہے۔خواہ ” باذن اللہ " ہی اس کا نام رکھے۔پھر بھی یہ شرک ہے۔اسی طرح اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص کی مدد سے میں فلاں کام کر لوں گا یا خود ذریعہ اور سبب کا پتہ لگا کر فلاں مشکل کو حل کرلوں گا یا روپے کے ذریعے اس کو درست کرلوں گا تو یہ بھی سب شرک ہے۔ایسا ہی اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں علاج کے ذریعے مرض دور کر لوں گا یا یہ سمجھتا ہے کہ کپڑوں کے ذریعہ میں سردی یا گرمی سے اپنے آپ کو بچالوں گا یا پانی سے پیاس بجھالوں گا یا کھانے سے بھوک مثالوں گا یا علم سے جہالت دور کر لوں گا تو وہ بھی مشرک ہے کیونکہ وہ اسباب پر حصر کرتا ہے اور اسباب بنانے والے کو چھوڑتا ہے۔مولوی کی نظریہاں تک نہیں گئی۔وہ عام طور پر اسی حد تک رہے ہیں کہ خدا کی صفات ذات اور اظہار قدرت میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے اور جو اس سے آگے بڑھے ہیں وہ صحیح راستہ پر نہ رہے اور جدھر صوفیاء لے جانا چاہتے تھے ادھر نہیں گئے بلکہ اور طرف چلے۔یعنی قدری اور جبری بن گئے۔یہ بھی اسباب ہی کے پیچھے گئے۔جبریوں نے تو کہہ دیا کہ جو فعل انسان سے سرزد ہوتا ہے وہ خدا ہی کراتا ہے۔اس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چور اگر چوری کرتا ہے تو خدا ہی کراتا ہے۔ڈاکو اگر ڈاکہ ڈالتا ہے تو خدا ہی ڈلواتا ہے۔قاتل اگر قتل کرتا ہے تو خدا ہی قتل کراتا ہے