خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 240

240 یہی کہتا ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔پس جب نفس انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ کام ہونے کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ نہیں ہوا تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے مخصوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ان کے نزدیک نبی کا کام کیا ہے اور وہ ایک نبی کے کاموں سے کیا مراد لیتے ہیں۔ایسے لوگ اگر کہیں کہ نبی وہ ہوتا ہے۔جو مخالفین کے ساتھ جنگ کر کے فتح پائے تو انہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات درست نہیں کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی فاتح ہوئے ہیں جنہیں وہ نبی نہیں مانتے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ہر فاتح نبی ہوتا ہے تو پھر ایسے بھی نبی ہیں جو فاتح نہیں۔مثلاً حضرت لوط نے کوئی فتح نہیں کی۔حضرت ابراہیم نے کوئی فتح حاصل نہیں کی۔حضرت نوح فاتح نہیں تھے۔حضرت آدم نے بھی کوئی فتح نہیں پائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی فتح حاصل نہیں ہوئی۔حتی کہ ان کی قوم کی بزدلی نے لڑائی کا موقع ہی نہ آنے دیا اور لڑنے سے انکار کر دیا۔رسول کریم کو بیشک کامیابی ہوئی۔آپ نے لڑائیاں بھی لڑیں اور فتوحات بھی حاصل کیں لیکن یہ سنت تمام انبیاء کے متعلق نہیں ہے پس معلوم ہوا کہ نبوت سلطنت حاصل کرنے اور فتح پانے کا نام ال نہیں۔ایسا ہی ہر نبی کے لئے شریعت لانا بھی ضروری نہیں۔کیونکہ اگر شریعت کا لانا ہی نبوت ہو تا تو تمام نبیوں کے پاس شریعتیں ہونی چاہیے تھیں لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔بہت سے نبی ایسے ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب شریعت کی نہیں اتری بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ان بے اندازہ نبیوں میں سے صرف چند ہی نبی کتاب لائے تو یہ زیادہ موزوں ہو گا۔حضرت ہارون کوئی شریعت نہیں لائے۔حضرت یوشع کوئی شریعت نہیں لائے۔حضرت داؤد کوئی شریعت نہیں لائے۔حضرت زکریا کوئی شریعت نہیں لائے۔حضرت یحی کوئی شریعت نہیں لائے۔حضرت عیسیٰ بھی ہمارے عقیدہ کے مطابق کوئی شریعت نہیں لائے۔ایسا ہی اور بہت سے نبی ہیں جو کوئی شریعت نہیں لائے لیکن اگر شریعت نبوت کے لئے ضروری ہوتی اور ہر نبی تب ہی نبی ہوتا جب کہ اس کے پاس شریعت ہوتی تو پھر ان سب نبیوں کی نبوت کا انکار کرنا پڑے گا جن کے پاس شریعت کا ہونا ثابت نہیں۔پس پہلے اس سوال کو عام کر کے اس پر غور کرنا چاہیے کہ نبی کا کام کیا ہونا چاہیے اور پھر حضرت مرزا صاحب کے متعلق اسے پیش کرنا چاہیے۔جب تک یہ سوال عام نہ کیا جائے اور یہ تعین نہ کر لیا جائے کہ اس قسم کے سوال سے سوال کرنے والے کی مراد کیا ہے۔تب تک یہ فضول ہے کہ اس کے جواب کی طرف توجہ کی جائے۔کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے خیال کے ماتحت بنی کے