خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 162

162 پاس کچھ نہیں اور بچے کی خواہش کو دوسرے سے چیز لے کر پوری کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بچے کے اندر صبر اور قناعت کا مادہ نہیں پیدا ہو گا اور اس کی حرص بہت بڑھ جائے گی۔پس غرباء کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خواہشات کو ابھاریں نہیں۔بلکہ ان کو مارنے کی کوشش کریں تا ان کے اندر صبر اور قناعت کا مادہ پیدا ہو۔پھر ایسے مقامات پر بچے کو کھڑا نہیں رہنے دینا چاہیے جہاں امراء اچھی اچھی چیزیں کھا رہے ہوں۔بچوں کو ہی ایسے مقامات پر کھڑا ہونے سے نہیں روکنا چاہیے۔بلکہ بڑوں کو بھی یہی حکم ہے۔لا تمدن عينيك الى ما متعنا (الحجر ۸۹) کہ جو چیز تمہارے پاس نہیں۔اگر وہ دوسروں کے پاس ہے تو اس کو دیکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اس سے خواہش بد پیدا ہو گی۔بعض غریب آدمی اپنے بچوں کو ایسے مقامات پر جہاں امراء لوگ کھاتے پیتے ہوں۔کھڑے ہونے اور دیکھنے سے نہیں روکتے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی ان کے اندر حرص پیدا ہوتی ہے اور جب ان کی حرص پوری نہیں ہوتی تو پھر کسی نہ کسی طرح اس چیز کے حاصل کرنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں۔اس لئے ماں باپ کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی جگہوں سے روکیں اور وہاں ان کو کھڑا نہ ہونے دیویں کہ ایسی حالت میں کسی کو کچھ کھاتے دیکھنا بھی عیب ہے۔جس سے لالچ اور حرص پیدا ہوتی ہے۔جو بچوں کی آوارگی کا موجب ہوتی ہے۔غرض والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لئے اگر ان باتوں کی احتیاط رکھیں تو ان کے اخلاق کی درستی میں بہت کچھ تقویت پیدا ہو سکتی ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بچوں کے اخلاق اور عادات کی درستی اور ر اصلاح کے لئے میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری امر نماز با جماعت ہے۔بچوں کو نماز با جماعت ادا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔میری عمر زیادہ نہیں لیکن مجھے اتنے لوگوں سے ملنے اور جانچ اور پڑتال کا موقع ملا ہے اور ساتھ ہی میری طبیعت کو خدا تعالیٰ نے ایسا حساس بنایا ہے کہ سو سال کی عمر والے بھی اپنی عمر کے تجربوں کے بعد دنیا کی اونچ نیچ اور اچھے برے کو اتنا محسوس نہیں کر سکتے جتنا میں محسوس کرتا ہوں۔میں نے اپنے تجربے میں نماز با جماعت سے بڑھ کر کوئی چیز نیکی کے لئے ایسی مئوثر نہیں دیکھی۔سب سے بڑھ کر نیکی کا اثر کرنے والی نماز با جماعت ہی ہے۔اگر میں ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر (العنکبوت (۳۶) کی پوری پوری تشریح نہ کر سکوں۔تو میں اپنی زبان کا قصور سمجھوں گا۔ورنہ میرے نزدیک نماز با جماعت کا پابند انسان خواہ وہ اپنی بدیوں میں ترقی کرتے کرتے ابلیس سے بھی آگے نکل جائے پھر بھی میرے نزدیک اس کی اصلاح کا موقع ہاتھ سے نہیں