خطبات محمود (جلد 9) — Page 160
160 دیانتداری کے ساتھ ماں باپ بچوں کو سکھاتے ہیں اور گویا خصوصیت سے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ ماں باپ ایک چیز بچے کو نہیں دینا چاہتے۔لیکن اس کے اصرار کی وجہ سے اس کو دے دیتے ہیں اور پھر نظر بچا کر وہ چیز اس سے چھپا لیتے ہیں۔بے شک ان کا یہ فعل اخلاقا چوری نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ وہ ان کی اپنی چیز ہے جسے وہ بچہ کو نہیں دینا چاہتے اور نظر بچا کر اٹھا لیتے ہیں۔مگر اس سے بچوں کے اندر اس بات کی حس پیدا ہو جاتی ہے کہ ایسا بھی کیا جا سکتا ہے اور پھر وہ بھی یہ کوشش کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم بھی چیزیں چھپائیں۔تو ماں باپ کی اس روش کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جھوٹ سے بڑھ کر نہایت آسانی سے چوری کی عادت بچہ ان سے سیکھ لیتا ہے۔الغرض پہلا طریق جو بچوں کی تربیت کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ ایسا طریق اختیار نہ کریں اور اپنے افعال کو ایسے رنگ میں بچے کے سامنے پیش نہ کریں کہ جس سے بچے کے ذہن میں بد افعال کی طرف توجہ پیدا ہو۔دوسرا نقص بچوں کی تربیت میں میں نے دیکھا ہے۔اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ماں باپ غریب ہوتے ہیں یا امیران دونوں صورتوں میں بچوں میں دو نقص پیدا ہو جاتے ہیں جو میں آگے بیان کروں گا۔غریبوں کے اندر غربت کی وجہ سے بعض نقائص پیدا ہو جاتے ہیں اور امیروں کی اولاد میں آسودگی اور وسعت مال کی وجہ سے بعض نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض امیروں کو میں نے دیکھا ہے بچوں کو اتنا جیب خرچ دے دیتے ہیں۔جس سے ان کی عادات اور اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور ان میں آوارگی پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ بچے کی وقتی ضرورت سے زیادہ جیب خرچ کا اس کے پاس جمع ہونا رصحبتوں اور بد اخلاقیوں کا منبع ہے۔کیونکہ وہ بچے جن کے اخلاق خراب ہو چکے ہوتے ہیں جب ان کے ہاتھ اپنا کوئی پیسہ نہیں ہوتا جس سے وہ اپنی آوارگی کی عادات کو پورا کر سکیں تو وہ پھر امیر لڑکوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان سے تعلق پیدا کر کے جہاں وہ اپنی بد عادات کو ان کے تمام بد پیسوں کے ذریعہ پورا کرتے ہیں وہاں ان امیر لڑکوں کے اخلاق اور عادات کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کے ہاتھ میں پیسہ بالکل دیا ہی نہ جائے کیونکہ بچوں کو ان کی ضرورت کے مطابق دینا بھی ضروری ہے تاکہ اس سے ان کے اندر خرید و فروخت کا ملکہ پیدا ہو۔لیکن اتنا خرچ ان کو نہیں دینا چاہیے جسے وہ اپنے پاس جمع رکھ سکیں۔کیونکہ ایسی حالت میں شریر اور آوارہ لڑکے ان کے پاس جمع ہو کر ان کے اخلاق کو خراب کر دیتے اور ان کو بھی آوارہ بنا دیتے ہیں۔چونکہ غریب لڑکوں کے گرد جمع ہونے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے جن