خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 94

94 چوی حالانکہ نہ تو میرا یہ مقصد تھا کہ روزہ چھوڑ دیا جائے۔اور نہ روزہ چھڑوانا مد نظر تھا۔میں نے یہ کہا تھا کہ پندرہ سے اٹھارہ برس تک عمر روزہ کے لئے حد بلوغت ہے۔اس کا یہ مطلب اور مقصد نہ تھا کہ ہر وہ شخص جو اٹھارہ برس سے کم عمر کا ہے۔اس کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔جنہوں نے یہ نتیجہ نکالا اور باوجود پوری طرح نشو و نما حاصل ہونے کے روزہ رکھنا چھوڑ دیا انہوں نے غلطی کی۔اور جنہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ میں روزے کو مٹانا چاہتا ہوں انہوں نے بھی غلطی کی۔جہاں تک میری تحقیق روزے کے متعلق ہے وہ یہی ہے کہ روزے کے لئے اوسط بلوغت ۱۵ سال سے اٹھارہ سال تک ہے۔اس کے خلاف مجھے ابھی تک کوئی ثابت شدہ شرعی امر نہیں معلوم ہوا۔میرے دو دوست جو میری اس تحقیق پر معترض ہیں۔اگر وہ کوئی سند رسول اللہ ﷺ کی ثبوت میں پیش کر دیں تو جس منہ سے میں نے وہ اعلان کیا تھا اسی منہ سے اس کے خلاف اعلان کر دوں گا۔اور تسلیم کرلوں گا کہ میری رائے غلط تھی۔باقی رہا لوگوں کا اجتہاد۔سو انبیاء کو علیحدہ کر کے کسی اور سے دبنے کا مادہ میں نے اپنے اندر کبھی پایا ہی نہیں۔اور میں کسی کے اجتہاد کو بلا دلیل ماننے کے لئے تیار نہیں۔اجتہاد کی بناء عقل پر ہوتی ہے۔پس جس طرح کسی اور میں عقل ہے۔اسی طرح مجھ میں عقل ہے اگر کوئی بلا دلیل بات کہتا ہے تو میرے نزدیک ضروری نہیں کہ اسے تسلیم کیا جائے۔پس اگر کوئی حقیقت کے خلاف اپنا اجتہاد پیش کرتا ہے تو میں اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔خواہ اس کے نام کے ساتھ کتنے القاب لگے ہوئے ہوں۔میں سمجھتا ہوں روزوں کے متعلق لوگوں نے نہایت سخت غلطی کھائی ہے۔ایسے ایسے واقعات سننے میں آئے ہیں اور ایسے لوگوں سے سنے گئے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے ان واقعات کو دیکھا ہے کہ روزوں سے بہت سے بچوں کی ہلاکت تک نوبت پہنچ گئی ہے اور ایسے واقعات تو مجھے بھی پیش آئے ہیں کہ بعض عورتوں نے پوچھا ہے۔ہمارا دودھ پیتا بچہ بھوک کے مارے تڑپتا رہتا ہے ہم روزہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ایک آدمی نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک گھر والوں نے تین سال کے بچے کو روزہ رکھوا دیا۔دن میں جب اسے پیاس لگی اور وہ بلبلانے لگا تو گھر والوں نے سمجھا۔اگر روزہ تو ڑوا دیا گیا تو روزہ کی سخت ہتک ہو گی اور بہت بڑا گناہ ہو گا۔اس خیال سے کوئی اسے پانی نہ پینے دے۔اور ایسی حالت میں نہ پینے دے جب کہ اس کی بے قراری اور تکلیف سے سارا گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔آخر روزہ کھلنے کے وقت سے پہلے وہ بچہ تڑپ تڑپ کر مر گیا مگر کسی نے اسے پانی نہ دیا۔شائد کوئی کہہ دے ان لوگوں نے بڑی نیکی کی۔اور بڑے تقویٰ کا ثبوت دیا کہ اپنا بچہ