خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 87

87 ان کے فوائد ہیں۔تو نمازوں اور روزوں میں ضرور فوائد ہیں۔مگر ان کے اثرات کو وہی محسوس کرتے ہیں کہ جو اس کے اہل ہیں۔گو دوسرے لوگ ان کو محسوس نہ بھی کریں لیکن ان کا فائدہ ان کو بھی ضرور پہنچتا ہے۔میں نے دیکھا ہے قطع نظر اس سے کہ روزہ ایک عبادت ہے۔اس میں ایسی روحانی راحت اور سکون حاصل ہوتا ہے جو یقیناً جب روزہ نہیں ہوتا محسوس نہیں ہوتا۔روزہ میں ایسی حالت ہوتی ہے گویا جس طرح سخت سردی اور بارش میں چلتے چلتے انسان ایک گرم مکان میں داخل ہو جائے۔جس طرح وہ اس وقت گرمی سے یکدم آرام اور اطمینان میں ہو جاتا ہے۔اسی طرح روزہ رکھ کر انسان اطمینان اور آرام حاصل کرتا ہے۔لیکن ایسا احساس انہیں کو ہوتا ہے جن کی حس تیز ہوتی ہے۔وہ اس کو ایسا محسوس کرتے ہیں کہ جس طرح وہ روزہ رکھنے سے پہلے روحانیت کے سورج سے دوری کی وجہ سے تکلیف اٹھا رہے تھے۔لیکن روزہ رکھتے ہی وہ اس کے قریب آگئے اور ان کے اعصاب کو قرار اور اطمینان اور ایک قسم کا سکون حاصل ہو گیا۔پس ایک شخص جس کی حس بہت موٹی ہو۔وہ اگر کسی امر کے اثر کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے اس خیال کی وجہ سے باقیوں کے تجربے اور مشاہدے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایک شخص کہتا ہے خدا کو میں نے نہیں دیکھا۔خدا کوئی نہیں۔لیکن دوسرے مشاہدوں کی اس شہادت کی موجودگی میں کہ ہم نے خدا کو دیکھا ہے اور وہ ہم کو نظر آیا ہے۔اس کی بات کو کب وقعت حاصل ہو سکتی ہے۔اسی طرح ایک شخص جو یہ کہتا ہے کہ خدا کلام نہیں کرتا۔اس کی اس بات کو ہم اس کا خیال کہہ سکتے ہیں۔لیکن وہ لاکھوں انسان جنہوں نے خدا کے کلام کو سنا ہے اور وہ روحانی امور کے اثرات کے شاہد ہیں۔ان کی شہادت کا کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔پس روحانی امور میں بھی اسی طرح فوائد اور اثرات مرتب ہوتے ہیں جس طرح جسمانی اور مادی امور میں انسان نفع یا نقصان حاصل کرتا ہے۔گو وہ محسوس کرے یا نہ کرے۔مگر میرے نزدیک جس چیز سے دنیا کو نقصان پہنچتا ہے۔اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار پہنچتا ہے۔وہ ہر ایک امر کے اس نقطہ وسطی کو ترک کرنا ہے جس کے بغیر نیک نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔میں نے دیکھا ہے عام طور پر لوگ ایک پہلو کی طرف جھک جاتے ہیں۔کئی ہیں جو نمازوں میں سست ہیں اور باقاعدہ وقت پر نمازیں ادا نہیں کرتے۔کئی ہیں جو نماز تو پڑہتے ہیں لیکن باجماعت نماز نہیں پڑھتے۔یا کم از کم باجماعت نماز ادا کرنے کا ان کو خیال نہیں ہوتا۔لیکن روزوں کے ایام میں وہ روزوں کی ایسی پابندی کریں گے کہ خواہ ڈاکٹر بھی ان کو کہہ