خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 68

68 کیا بگاڑ لیا تھا کہ اب میرا کچھ بگاڑ لو گے۔بے شک تم سب میرے مخالف ہو جاؤ مگر میں ان مظلوموں پر ہرگز ظلم نہیں ہونے دوں گا ۳ مگر امیر نے ملانوں کے شور و شر سے خوف کھا کر خاموشی اختیار کی اور ان مظالم کے انسداد کے لئے جرات سے کام نہ لیا۔ورنہ اگر وہ جرأت سے کام لیتا تو کوئی بڑی بات نہ تھی۔خدا تعالیٰ اس کی مدد کرتا اور اس طرح مدد کرتا جس طرح اس نے نجاشی کی کی تھی۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ امیر کابل مجرم ضرور ہے۔مگر ہمیں اس کے حالات معلوم ہیں اور ہم یقیناً جانتے ہیں کہ وہ اور نہ اس کے وزراء یہ ہر گز پسند نہیں کرتے کہ احمدیوں پر اس قسم کے ظلم کئے جائیں۔لیکن ان کے وساوس نے ان کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ملانوں کے مقابلہ میں خدا کا ہاتھ ہماری حکومت کی حفاظت نہیں کر سکتا۔اس لئے انہوں نے بزدلی دکھائی ہے۔پس ایسی حالت میں ان سے اپیل کرنا فضول ہے۔جب تک کہ ان کی حکومت ملانوں کے ہاتھ سے نہ نکلے۔باقی رہے ملانے۔اب خواہ کوئی شخص کتنا بھی تعصب میں اندھا ہو رہا ہو۔وہ اس امر کا ہرگز یقین نہیں کر سکتا بلکہ امید بھی نہیں کر سکتا کہ وہ ملانے ہماری اپیل پر اپنے فتوی کو واپس کر لیں گے۔اور ان مظالم سے وہ دست بردار ہو جائیں گے۔بھلا دیوبند کے ملانوں کے سامنے ہی کوئی اپیل کر کے منوائے تو سہی۔جو لوگ کہ انسانی خون میں جو نہایت بے دردی اور ظالمانہ طور پر کیا جائے خوشی اور لذت محسوس کریں۔جن کی ضمیر قطعاً ایسی حرکات پر ان کو ملامت اور شرمندہ نہ کرے۔بلکہ وہ فخر کے طور پر اعلان کریں اور نہ صرف یہ کہ وہ فخر کریں بلکہ ان لوگوں کو جنہوں نے اس قسم کے ظلم کئے یہ تحریک کریں کہ یہ بہت اچھا کام ہے۔اس کو جاری رکھنا چاہیے۔جن کی فطرت اس حد تک گر گئی ہو ان کے آگے ان کی اس قسم کی حرکات کے خلاف اپیل کرنے میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اگر امیر امان اللہ خان کو سیاسی مجبوریاں اور دنیاوی اغراض کے پورا نہ ہونے کا خطرہ پیش نظر نہ ہوتا تو اس کے پاس اپیل کرنے کا فائدہ بھی ہو سکتا تھا۔لیکن افغان گورنمنٹ اپنے سیاسی حالات کے ماتحت مجبور ہے۔یا کم از کم وہ اپنے آپ کو مجبور رکھتی ہے۔حالانکہ اگر وہ حق کی تائید میں کھڑی وتی تو خدا تعالیٰ اس کی مدد کرتا۔پس وہ خود آزاد نہیں بلکہ ملانوں کا ان پر قبضہ ہے۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ ملانوں نے کوئی فتویٰ دیگر۔خصوصاً جب کہ انہوں نے اس فتوی کو شریعت کی طرف منسوب کیا ہو۔آج تک کبھی بھی اپنی غلطی کا اقرار کر کے اپنے فتویٰ کو واپس لیا ہے۔ان خاص بزرگوں کو چھوڑ کر جو پہلے قلیل تعداد میں گزرے ہیں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ملانوں نے کبھی بھی اپنے فتوی کی غلطی کا اعتراف اور اعلان کیا ہو۔حضرت عثمان۔حضرت علی بھی انہی ملانوں