خطبات محمود (جلد 9) — Page 368
368 بھی ہے۔اور وہ حقیقت یہی ہے کہ ان میں اگر عبادت کی جائے تو بہ نسبت دوسرے مقامات کے ایک خاص لذت محسوس ہوتی ہے۔وہاں جب ایک شخص جاتا ہے اور وہ جب اس بات کا خیال کرتا ہے کہ یہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا تھا اور یہاں خدا نے اپنا نشان دکھایا تھا تو اس کے دل کی عجیب حالت ہو جاتی ہے۔ایک شخص جب خانہ کعبہ میں عبادت کرتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کجا یہ عظیم الشان شہر اور اور کجاوہ جنگل جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔وہ دیکھتا ہے کہ اس بے آب و گیاہ میدان میں کیونکر خدا نے یہ شہر بسایا۔تو کیا اس کے ایمان میں کوئی تازگی پیدا نہیں ہوتی۔اور اس کی روحانیت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا۔اور کیا جہاں وہ پہاڑ سامنے ہوں کہ جن پر خدا جلوہ آرا ہوا۔جہاں وہ ٹیلے نظر میں ہوں کہ جن پر خدا کا جلال ظاہر ہوا۔جہاں وہ رتیلا میدان دھیان میں ہو۔جس پر خدا کے کئی نشان ظاہر ہوئے۔جہاں وہ مقامات نگاہ کے نیچے ہوں کہ جن پر خدا نے آنحضرت کی مدد و نصرت کی۔وہاں عبادت کرنے سے جو لطف آ سکتا ہے وہ اور جگہ آسکتا ہے۔پھر کیا ان چیزوں کا احترام ضروری ہے یا نہیں۔کیا ان کی حفاظت اور ان کے قیام کے لئے کوشش کرنا مناسب ہے یا غیر مناسب؟ وہابیوں نے بیشک شرک کو مٹایا مگر ہم یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتے کہ اس شرک کو مٹاتے مٹاتے انہوں نے شعائر اللہ کی بے حرمتی بھی کی اور پھر حضرت عیسی کے ایک بت کو بھی قائم رکھا۔جسے آخر ہم نے توڑا۔پس وہابیوں سے بڑھ کر ہم شرک کے دشمن ہیں۔ہم نے نہ صرف حضرت عیسی کے بت کو جسے وہابیوں نے بھی چھوڑ دیا تھا۔تو ڑا بلکہ اس کے سوا اور بھی بت توڑے اور اور بھی کئی قسموں کے شرکوں کو مٹایا ہے مگر ان بتوں کو توڑتے اور ان شرکوں کو مٹاتے ہوئے ہم نے شعائر اللہ کی بے حرمتی نہیں کی اور کسی رنگ میں جبر نہیں کیا اور نہ ہی جبر کرنا ہم جائز سمجھتے ہیں۔پھر ہم نے ان کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ شعائر اللہ کے اندر جو عظمت ہے اس کا انکار کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ شرک ہے۔کیونکہ شعائر اللہ کو ہی اگر شرک کہیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ خدا نے خود (نعوذ باللہ) شرک کو پھیلایا اور ایسا شائد وہانی بھی نہ کہیں۔گو عملاً ان کے فعل کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔پس ہم تو وہابیوں سے بڑھ کر شرک کے دشمن ہیں۔۔پس شعائر اللہ اگر شرک ہیں تو مکہ معظمہ اور مسجد نبوی بھی پھر شرک ہے۔ان کی طرح ان کو بھی گرا دینا چاہئے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان مقامات میں عبادت کرنے کا زیادہ ثواب آیا ہے۔بہ نسبت دوسری مسجدوں کے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا زیادہ ثواب ہے اور پھر صفا و مروہ اور منیٰ میں بھی