خطبات محمود (جلد 9) — Page 32
32 و لنفسک علیک حق ولزوجک علیک حق ولضیفک علیک حقا تو حقوق دنیاوی بھی عبادات ہیں۔بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے والا بھی عبادت کرتا ہے۔ایک مصلیٰ پر بیٹھنے والا تو یہ دیکھ کر کہہ دے گا کہ یہ کیسا عیاش آدمی ہے۔مگر آنحضرت نے اس کو بھی (اگر وہ احتسابا کرتا ہے۔) عبادت ٹھہرایا ہے۔اس کا ایسا ہی اجر ہے جیسے اس نے نماز پڑھی۔آنحضرت ﷺ کی ایک بیوی نے گلاس سے پانی پیا۔آپ نے بھی اسی جگہ اپنا منہ رکھ کر پانی پیا اس رنگ میں بیوی سے محبت کا اظہار کرنے کو بہت سے ایسے لوگ ہیں۔جو اس کو عیاشی کہیں گے۔مگر احتسابا یہ نیکی اور عبادت ہے۔اس لئے میں افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ محنت سے کام کریں۔دوسری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے لئے کام کا مہیا کرنا ضروری ہے جس پر ان کو لگایا جائے۔لیکن یہ کام نہ میں کر سکتا ہوں اور نہ محکمہ کر سکتا ہے۔بلکہ یہ کام جماعت کا ہے۔مختلف پیشے کرنے والے اور جاننے والے جماعت میں موجود ہیں۔(نجار ہیں۔سنار ہیں۔لوہار ہیں) یہ دوسروں کو کام سکھا سکتے ہیں۔یا کام کی جگہ نکال سکتے ہیں۔یا بڑی بڑی منڈیوں میں کاموں کی بعضوں کو واقفیت ہوتی ہے۔یا ایسے پیشے جن کو معلوم ہوں کہ جو قادیان میں رہتے ہیں وہ یہاں رہ کر بھی ان کے ذریعے کما سکیں تو وہ ان علوم اور ہنروں اور پیشوں سے مجھ کو یا امور عامہ کو اطلاع دیں۔اور جن کو پیشے اور ہنر آتے ہیں وہ دوسروں کو سکھائیں۔بعض دوسروں کو اپنا کام سکھانے میں بخل کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے ایک کمزور بھائی کو اپنا کام سکھا کر اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔اگر ایک جگہ ایک احمدی وکیل ہے تو دوسرے دس وکیل اس سے دشمنی کریں گے۔اور ہر ایک کے آگے اس کے خلاف رائے دیں گے۔لیکن اگر ایک کی جگہ ضلع میں دو احمدی وکیل بھی ہوں تو پھر ایک آواز تو کم از کم اس کے حق میں بھی پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح اگر کسی جگہ ایک احمدی نجار ہے۔تو لوگ اس سے بائیکاٹ کر سکتے ہیں اور دوسرے دس اس ایک کے کام کو سنبھال سکتے ہیں۔لیکن اگر کئی احمدی نجار ہوں تو پھر وہ لوگ ان سے کام کروانے پر مجبور ہوں گے۔کیونکہ دوسرے ان کے کام کو سنبھال نہ سکیں گے۔پس ان کے لئے کام مہیا کرنا یا ان کو کام سکھانا اپنی مدد آپ کرنا ہے۔تیسرے جو ملازم ہیں اور محکمہ جات میں رسوخ رکھتے ہیں وہ اپنی جماعت کے بریکاروں کے لئے کام نکالیں۔پہلے بھی میں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔بعض مسلمان جو کسی عہدہ پر ہوتے ہیں اور ان کو رسوخ حاصل ہوتا ہے وہ مسلمان کے لئے ملازمت کی کوئی جگہ اس لئے نہیں نکالتے کہ لوگ ان کو متعصب کہیں گے۔حالانکہ ایسا خیال کرنا ان کی بیوقوفی ہے۔اپنی قوم کی جو شخص مدد نہیں کرتا وہ انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔اس لئے ہماری جماعت کے ملازمین کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہیے۔مثلاً ایک اکسٹرا اسٹنٹ احمدی ہے۔یا تحصیلدار۔