خطبات محمود (جلد 9) — Page 358
358 میں اشاعت پائی۔اس میں شک پڑ جاتا ہے اور لوگ نجدیوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔پس انہیں چاہئے کہ بجائے سختی کے دلائل سے کام لیں اور یاد رکھیں سختی وہ کام نہیں کر سکتی جو دلائل کر سکتے ہیں۔جو کچھ اس وقت تک ہو چکا ہے سب کو معلوم ہے۔مگر آئندہ کے لئے امید دلائی جاتی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔بہت اچھا۔اگر آئندہ ایسا نہیں ہوگا اور آئندہ اس قسم کی سختی جو اب تک کی گئی نہ کی جائے گی بلکہ دلائل سے کام لیا جائے گا۔تو پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی اس کام میں ان کے ساتھ ہوں گے اور ان کی تائید کریں گے۔ابھی یہ خبر چھپی ہے کہ مدینہ طیبہ ابن سعود کے قبضہ میں آگیا ہے اگر یہ خبر صحیح ہے (کیونکہ بعض دفعہ خبریں غلط بھی ہوتی ہیں اور ان کی بعد ازاں تردید ہو جاتی ہے اور اس خبر کی ابھی تک دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی کہ فی الواقع مدینہ طیبہ پر ابن سعود کا قبضہ ہو گیا ہے۔اگر انہوں نے وہاں کے لوگوں کے مشرکانہ عقائد کی تردید غیر متشددانہ طریق پر کی تو ہم یہ سمجھیں گے کہ ان کا یہ فعل تبدیلی حالات پر دلالت کرتا ہے۔پس اگر انہوں نے قبوں وغیرہ پر دست درازی نہ کی اور وہاں کے مقامات کو نقصان نہ پہنچایا اور لوگوں کے امن میں خلل نہ پیدا کیا بلکہ ان کی حفاظت کرنی شروع کی اور دلائل سے عمدہ تعلیم سے اور عمدہ نمونہ سے ان لوگوں میں توحید پھیلائی تو ہم نہ صرف یہ سمجھیں گے کہ ان کا یہ فعل تبد یلئی حالات پر دلالت کرتا ہے۔بلکہ ہم ان کی مدد بھی کریں گے۔میرے نزدیک کسی حکومت کے لئے جائز نہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں زبردستی کرے یا زبردستی کسی قوم کے قابل احترام مقامات کو گرائے یا ان پر قبضہ کرے۔پس ایک اسلامی حکومت کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے علاقے کے مسلمانوں کی عبادت گاہوں یا قابل احترام مقامات کو گرا کر ملک میں فتنہ پیدا کرے۔لیکن ہاں میرے نزدیک دو مقام ایسے ہیں جن میں اگر کوئی مشرکانہ فعل ہوتا ہو تو اسلامی حکومت کے لئے جائز ہے کہ جبراً اس میں دست اندازی کرے اور ان مقامات کو اپنی حفاظت اور نگرانی میں رکھے۔ان مقامات مقدسہ میں سے ایک تو خانہ کعبہ ہے اور دوسرا مسجد نبوی۔مسلمانوں کی دست اندازی ان میں جائز ہے اور ایک اسلامی حکومت کا حق ہے کہ ان پر اپنا قبضہ رکھے۔وہ بہر حال اسلامی حکومت کے قبضے میں رہنے چاہئیں۔اور اس قبضہ کی غرض صرف حفاظت ہونی چاہئے نہ کہ ان کے استعمال میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرنا۔پس ان دونوں مقامات پر