خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 348

348 پس عادت بھی بعض اوقات اصلاح کا باعث ہو جاتی ہے۔اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نماز باجماعت کی عادت پڑ جائے اور وہ مسجدوں میں آنا شروع کر دیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ یہاں آنے والے سارے ہی بہادر نہیں ہوتے جو محبت اور اخلاص سے آئے ہیں۔بعض یہاں آنے والوں میں سے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بزدل اور کمزور ہوتا ہے۔قادیان کا عشق ان کو یہاں نہیں لاتا۔سلسلہ کی محبت سے وہ یہاں نہیں آتے بلکہ باہر کی تکلیفوں سے ڈر کر یہاں آتے ہیں۔دلیری تو وہ کرتے ہیں کہ احمدی ہو جاتے ہیں مگر بعد میں جو تکلیفیں آتی ہیں اور جو مشکلیں پیدا ہوتی ہیں ان کے مقابلہ سے عاجز آکر اور رشتہ داروں اور دوستوں اور دوسرے لوگوں کے آئے دن کے جھگڑوں سے تنگ آکر یہاں آئے ہیں۔تو ایک طبقہ کمزور آدمیوں کا ضرور یہاں ہے جو بعض کمزوریاں دکھاتا ہے مگر وہ طبقہ جو کمزور نہیں اور اخلاص کے رنگ میں یہاں آیا اور ایمان اسے یہاں لایا ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ کمزور طبقہ کو اپنے پیچھے لگاتا اور ان میں ایمانی ترقی پیدا کرتا۔مگر وہ خود کمزوروں کے طبقے کے پیچھے ہو لیتا ہے۔اگر اسے ان کے پیچھے ہی لگتا تھا تو قادیان آنے کی کیا ضرورت تھی۔کیونکہ قادیان نہ آنے کی صورت میں وہ اگر ترقی نہ کرنا تو منزل بھی تو اختیار نہ کرتا مگر افسوس ہے کہ وہ قادیان آیا تو اس لئے تھا کہ پہلے سے زیادہ روحانی ترقی کرے لیکن یہاں آکر ایسے لوگوں کے پیچھے لگ جاتا ہے جو دین میں کمزور ہوتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک سبزہ کھانے والی بکری اور ایک نجاست کھانے والی بھیٹر ہو۔ایسے شخص نجاست کھانے والی بھیڑ کے پیچھے لگتے ہیں اور سبزہ کھانے والی بکری کے پیچھے نہیں لگتے۔اگر یہاں نماز کے چور اور نماز کے ست موجود ہیں تو دوسری طرف وہ بھی تو موجود ہیں جو میل میل ڈیڑھ ڈیڑھ میل سے چل کر مسجد میں آتے ہیں۔وہ کیوں کمزوروں کے پیچھے لگتے ہیں اور کیوں ان کے پیچھے نہیں لگتے۔جو میل میل ڈیڑھ ڈیڑھ میل دور سے آتے ہیں اور اپنے اخلاص اور اپنے ایمان میں ہر لحظہ ترقی کر رہے ہیں مگر ان کی رغبت ان کی طرف تو ہے جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں مگر ان سے انہیں کوئی مناسبت پیدا نہیں ہوتی۔جو ماسوا فاصلہ کے تکلیفوں کو بھی برداشت کرتے ہیں۔مگر اپنے ایمان میں اور اپنے اخلاص میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہونے دیتے اور نمازیں مسجدوں میں پڑھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جالینوس ایک جگہ کھڑا تھا۔ایک دیوانہ دوڑتا ہوا آیا اور آکر اس سے چمٹ گیا جب جالینوس کو اس نے چھوڑا۔تو اس نے کہا میری فصد نکلواؤ۔اس پر لوگوں نے پوچھا۔فصد کیوں کھلواتے ہو؟ کہنے لگا۔یہ دیوانہ جو آکر مجھے کو