خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 346

346 کرنی چاہئے۔باجماعت نماز قریب ترین مسجد میں پڑھنی چاہئے۔مجھے معلوم ہوا ہے کئی لوگ مسجد مبارک کے پاس سے گزر کر بڑی مسجد میں چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں کسی قدر جلدی نماز ہو جاتی ہے ہم دوسری یا تیسری رکعت میں ہوتے ہیں کہ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم نماز پڑھ کر واپس آرہے ہوتے ہیں۔جن کے شور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اب واپس آرہے ہیں۔کیونکہ وہ آتے ہوئے اس طرح شور مچاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بھیڑوں کا گلہ آرہا ہے۔ان کے آنے کے وقت ہم دوسری یا تیسری رکعت پڑھ رہے ہوتے ہیں۔جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کوئی پندرہ بیس منٹ کا آگا پیچھا ہوتا ہے۔اس پندرہ میں منٹ کے عرصہ کے لئے مسجد مبارک سے پاس سے گزر کر دوسری مسجد میں جانا کہاں تک ان کی روحانیت پر دلالت کرتا ہے۔پس جو پندرہ میں منٹ کے لئے مسجد مبارک کو چھوڑ کر جو ان کے قریب بھی ہے دوسری مسجد میں جاتے ہیں انہیں بھی اپنی روحانیت کی فکر کرنی چاہئے۔ایسا شخص جو مسجد مبارک کو اس خیال سے چھوڑ کر کہ اس میں ذرا دیر سے نماز ہوتی ہے۔دوسری مسجد میں اس لئے جاتا ہے کہ اس میں نماز ذرا جلدی ہو جاتی ہے۔اسے اگر یہ معلوم ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مسجد کے متعلق کیا الہام ہیں۔اور کیسے کیسے وعدے خدا تعالیٰ کے اس کے متعلق ہیں۔تو وہ کبھی کسی دوسری مسجد میں جانے کا نام نہ لیتا خواہ نماز کی انتظار میں اسے آدھی رات ہی کیوں نہ ہو جاتی۔پس اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھتا اور اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہے کہ خدا کے وعدے بچے ہیں اور حضرت مسیح موعود سے بھی اس نے مسجد مبارک کے متعلق بعض وعدے کئے ہیں۔تو خواہ لنگڑا بھی ہوتا تو بھی آتا اور لنجا بھی ہو تا تو بھی وہ پہنچتا۔اور ہر گز یہ بات گوارا نہ کرتا کہ وہ اس مسجد کو چھوڑ کر کسی اور مسجد میں جا کر نماز پڑھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اس مسجد کے پاس سے گزر کر دوسری مسجد میں جاتے ہیں۔یا تو ان کے اندر نفاق کا مادہ ہے یا انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان نہیں۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص کو حضرت مسیح موعود پر ایمان بھی ہو اور وہ اس مسجد کے پاس سے گزر کر دوسری جگہ نماز پڑھنے کے لئے چلا جائے۔ایسے بھی تو لوگ ہیں جو سردیوں میں ٹھٹھرتے ہوئے دور سے آکر اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو اس مسجد سے بہت زیادہ فاصلہ پر رہتے ہیں لیکن خواہ کچھ ہو پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں آکر پڑھتے ہیں۔وہ لوگ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ