خطبات محمود (جلد 9) — Page 328
328 سالوں سے محفوظ چلی آتی تھیں۔ویران ہو گئی ہیں۔وہ شہر جو سالہا سال سے ہے۔صدیوں سے ان آثار و مقامات کے لئے مشہور چلا آتا تھا اور جسے نہ دست انقلابات۔نہ مرور زمانہ۔نہ کسی ظالم و جابر بادشاہ کا ظلم تباہ کر سکا۔آج فرانسیسیوں کی مسلسل گولہ باری سے خاک میں مل گیا۔نہ وہ رہا نہ اس کے وہ مقامات جو مقدس سمجھے جاتے تھے رہے۔یہ کتنی بھاری مصیبت ہے جو اس شہر پر آئی اس سے بڑھ کر کوئی آفت کسی شہر پر نازل نہیں ہو سکتی اور اس سے بڑھ کر کوئی تباہی نہیں آسکتی کہ ایک ایسا شہر جو نہایت ہی قدیمی ہو۔جس میں دنیا کی تین مشہور قوموں کی مذہبی یادگاریں ہوں۔جس کی طرف دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہو۔وہ اس طرح ویران و برباد کر دیا جائے۔جس کا کسی کو وہم و خیال بھی نہ ہو سکتا تھا۔کوئی ہے جو اس پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس شہر کے متعلق جو خبر تائی۔وہ اس صفائی کے ساتھ پوری ہوئی۔کوئی نہیں جو اس کا انکار کر سکے کہ یہ خدا ہی کی بتائی ہوئی بات تھی۔بشرطیکہ وہ سلیم طبع ہو۔اور شرارت پر آمادہ نہ ہو۔کیا اس ایک واقعہ سے ہی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بولتا تھا اور پھر یہ کہ وہ قادر ہے اور ہر ایک شے پر قدرت رکھتا ہے۔یہ عظیم الشان نشان جو ظاہر ہوا ہے اور جس سے ایمان پہاڑوں کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے اور چٹانوں کی طرح راسخ ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت بڑے زور سے ثابت کر رہا ہے۔خدا نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج سے کئی سال پہلے خبر دی کہ دمشق پر ایک بلا نازل ہونے والی ہے۔اور خدا نے ہی اسے آج پورا کر دکھایا اور ایسے کھلے کھلے رنگ میں پورا کیا کہ کوئی عظمند اور سلیم الطبع شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔کیا مولویوں سے ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اس قسم کے نشان دکھاتے یا کسی عظیم الشان واقعہ کی پہلے خبر دے سکتے۔جو پھر پوری ہو جاتی۔ہر گز نہیں۔مولوی تو اس قابل ہی نہ رہے تھے کہ خدا تعالٰی اس طرح انہیں اپنے مصفی غیب سے آگاہ کرتا۔وہ تو خود طرح طرح کے گندوں میں پھنسے ہوئے تھے۔یہ اسی کا کام تھا۔جسے خدا نے لوگوں کو پاک کرنے کے لئے خود مامور فرمایا کہ وہ خدا سے خبر پا کر پیش آنے والے واقعہ کی خبر پہلے سے دے دیتا۔کیا اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ظاہر نہیں ہوتی؟ اور کیا اس سے ایمان مضبوط اور دلوں میں پہاڑ کی طرح جاگزیں نہیں ہو جاتا ؟ آج مسلمان۔عیسائی اور یہودی رو رہے ہیں کہ سب کے مقامات مقدسہ برباد ہو گئے ہیں